انڈین خلائی مشن کی ناکامی: کہیں خوشی کہیں غم

خلائی مشن کی ناکامی پر انڈین شہری افسردہ ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
چاند پر پہنچنے کے لیے انڈیا کے خلائی مشن چندریان ٹو کی ناکامی پر جہاں ایک طرف انڈیا کے کچھ شہری مایوس اور کچھ  پُر امید ہیں تو وہیں دوسری جانب پاکستانی انڈیا کی اس ناکامی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس وقت سوشل میڈیا کا محاذ خوب گرم ہے جہاں انڈین صارفین اپنے سائنسدانوں کی ہمت بڑھاتے ہوئے اس ناکامی کو کامیابی کی جانب ایک اور قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستانی صارفین انڈیا کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔
طاہر احمد نامی صارف نے پھبتی اڑائی کہ ’ فکر نہ کرو میرے انڈین ساتھیو! شاہ رخ خان اپنی اگلی فلم میں یہ مشن پورا کریں گے۔‘

ایک اور صارف عائشہ صدیقہ نے چاند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’انڈینز کو یہاں آنے کی اجازت نہیں، چاند کی طرف سے پیغام۔‘

زاہد ملہی نامی صارف نے مشورہ دیا کہ’خلائی مشن ناکام، چلو انڈیا ٹوائلٹس بنانے پر توجہ دو‘۔

ٹریٹر کلر کے نام سے ایک ہینڈل نے سامان سے لدے ٹرک کی تصویر شیئر کرتے ہوئے فقرہ کسا کہ ’ہمارے تو ٹرک ڈرائیوروں کو بھی ٹیک آف اور لینڈ کرنا آتا ہے۔‘

وینا ملک نامی ایک ٹویٹر ہینذل نے خلائی مشن کی ناکامی پر تمسخر اڑاتے ہوئے لکھا ’چاند نے انڈیا کو ماموں بنا دیا۔‘

پاکستانی صارفین چٹکلے چھوڑنے سے باز نہ رہے تو انڈین صارفین بھی میدان میں آگئے۔

اروند اکشے نامی صارف نے ’مدنی طیارے‘ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’جھگڑا چھوڑیں، پاکستانی اسرو اور انڈین عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں تو دنیا کو دکھائیں کہ ان کا سپیس پروگرام کیا ہے۔‘

ایک ا ور صارف تانمے سترادھار نے لکھا کہ ’جنہوں نے کبھی کچھ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی وہ بھی ’انڈیا فیل‘ کے نام سے ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ انڈیا کی خلائی تحقیقاتی تنظیم اسرو کے چیئرمین کو گلے لگا کر ان کو حوصلہ دے رہے ہیں۔
 وشوتما نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمیں اپنے وزیراعظم مودی پر فخر ہے جو اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انڈیا کے عوام اسرو کے ساتھ ہیں۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف ارجیت کرش نے لکھا کہ ’ہم ناکام ہوگئے لیکن ہم جلد اس نقصان پر قابو پالیں گے اور دوبارہ ابھر کر سامنے آئیں گے۔‘
دوسری طرف پاکستان کے وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہندوستان کو مشورہ ہے کہ بغیر سوچے سمجھے چندریان جیسے مشن بنانے یا ابھینندن جیسوں کو لائن آف کنٹرول کے پار چائے پینے بھیجنے جیسے منصوبوں پر پیسہ لٹانے کے بجائے اپنے لوگوں کو غربت سے باہر نکالنے پر پیسے لگائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر انڈیا کا ایک اور چندریان ہو گا اور قیمت چندریان سے بھی کئی گنا زیادہ ہو گی۔‘

شیئر: