Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

دستیاب قیادت یا علیمہ خان، اصل رہنما کون؟ اجمل جامی کا کالم

یہ طے ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ خان کی عدم موجودگی میں رہنما کون ہے؟ (فوٹو: سکرین گریب)
بدھ کو علیمہ خانم نے گویا مسئلہ ہی حل کر دیا، سال ڈیڑھ سے عجب کھچڑی پک رہی تھی۔ بالخصوص جب سے ملاقاتوں پر پابندی لگی، پارٹی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تقریباً جام ہو کر رہ گیا تھا۔
رابطہ کار دو چار رہنما بھی ہلکی آنچ پر راگ الاپ رہے تھے۔ واقفانِ حال اس بابت تبصرہ کرتے تو سوشل میڈیا پر ایک عجب طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا۔ کون کس گروپ میں ہے؟ خان کی عدم موجودگی میں رہنما کون ہے؟ طے ہی نہیں ہو پا رہا تھا۔ ہر عہدیدار اپنی بچت کروانے کے لیے پاپڑ بیل رہا تھا۔
کبھی ہمیشران کے سہارے لائف لائن بچائی جاتی تو کبھی بشریٰ بیگم کے قریبی حلقوں کی آشیرباد سے۔ کبھی بلند نعرے لگا کر ورکر سے داد سمیٹی جاتی تو کبھی کوٹ کچہری میں ’کھجل‘ ہو کر وفا ثابت کرنے کی جدوجہد کی جاتی۔
ایسا نہیں کہ یہ وفادار نہیں تھے۔ یہ وفا دار تھے اور وفادار رہیں گے۔ انہیں حالات نے اور اعلیٰ قیادت نے بے بس کر رکھا تھا۔ سوشل میڈیا پر حاوی گروپ اپنی ہی پارٹی قیادت کی زندگی اجیرن کیے ہوئے تھا۔ رہی سہی کسر سسٹم، سرکار اور یو ٹیوبرز پوری کر رہے تھے۔
ان کے ہاں عجب بے بسی تھی۔ بات چیت کی جانب چلتے تھے تو پیچھے سے کوئی نہ کوئی ٹماٹر اُٹھا کر اُچھال دیتا۔ مزاحمت کی بات کرتے تو سسٹم سے چھلنی ہونے کا خدشہ رہتا۔ عجب رسّی تھی جو دہک بھی رہی تھی اور اس پر چلنا بھی لازم تھا۔
بالآخر علیمہ خان نے لکیر کھینچ دی۔ فرمانے لگیں کہ ’کلیئر ہو جائیں، عمران خان کی صحت پر فیصلہ کرنے کا مینڈیٹ پارٹی کے پاس نہیں، یہ فیملی اور ڈاکٹرز کا مینڈیٹ ہے۔ آئندہ خان کی صحت بارے کوئی بھی فیصلہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں ہوگا۔‘
اسی روز رات گئے شیخ وقاص ایک ٹی وی شو میں مخاطب تھے، مکمل دفاع کی کوشش کرتے کرتے کہہ ہی دیا کہ پہلے ایم این اے، ایم پی اے اور لیڈرشپ کو غدار کہہ کر ٹکے ٹوکری کر دیں پھر انہیں ہی اگلے ہفتے کہا جائے کہ بندے نکال کر لاؤ۔ یہ کیسا مضحکہ خیز کام ہے؟
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا علیمہ خان محض کپتان کی صحت کے معاملے پر ہی مینڈیٹ حاصل کر رہی ہیں یا پھر اس مینڈیٹ کی ہیئت سیاسی بھی ہوگی۔ واقفانِ حال ماضی قریب کے واقعات سُناتے ہوئے برملا اظہار کرتے ہیں کہ مینڈیٹ کی نوعیت محض فیملی کی سی نہیں بلکہ اس میں سیاسی عمل دخل بھی شامل ہے۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ خاندان کی اجازت کے بغیر عمران خان کی صحت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے (فوٹو: اے ایف پی)

اڈیالہ کے باہر کے معاملات ہوں یا علاج معالجہ کے، احتجاج کی کال ہو یا پارٹی رہنماؤں سے وابستہ توقعات، ہر مدعے پر توثیق کے لیے نگاہ محترمہ پر ہی تھی۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل ان کی آشیرباد کے بنا دائیں بائیں ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اور اس میں غلط بھی آخر کیا ہے؟
دیکھیے! تحریک انصاف کے ہاں موجودہ قیادت جسے خاکسار نے خان کے جیل جاتے ہی ’دستیاب قیادت‘ کا ٹائٹل دیا تھا، سیاسی نوعیت کی نہیں۔ ایسے یدھ کے بیچ ان کے پاس سیاسی تجربہ تو سرے سے ہی نہیں تھا۔ یہ حالات و واقعات کے نتیجے میں دستیاب ہوئے۔
ان کے پاس معاملہ فہمی  یا مزاحمت تک کا مینڈیٹ نہیں تھا۔ ڈوریں کہیں اور سے ہل رہی تھیں۔ رابطہ کار کچھ اور لوگ تھے۔ نہ یہ خان کو بھرپور طریقے سے جانتے ہیں نہ ہی مقتدرہ کے مزاج کو، نہ ان کے سیاسی جماعتوں سے دیرینہ تعلقات تھے نہ ان کے ہاں ورکر سپورٹر کو رام کرنے کے ہُنر میں یکتائی تھی۔ یہ ڈے ٹو ڈے افئیر کے لیے بہترین چوائس تھے۔ اس سے زیادہ کی توقع  بہرحال ناانصافی تھی۔
ایسے میں سپورٹر بددل ہوچکا تھا۔ اس کے ہاں دستیاب قیادت بارے کچھ جائز اور کچھ ناجائز وسوسے اور تحفظات تھے۔ خان کا پیغام پہنچ نہیں پا رہا تھا سو ایسے میں وہی ہوتا ہے جو جنوبی ایشیا کی تاریخ رہی ہے۔ یعنی چاہتے نہ چاہتے لیڈر کے اہل خانہ کی جانب رجوع۔
وہی ہوا۔ اکتفا خان کی بہن پر ہی ہوا۔ کیونکہ یہ ان کی بہن ہیں ان سے مخلص ہیں، ہر ہفتے اڈیالہ جا کر دھرنا دیتی ہیں۔ عدالتوں کے چکر کاٹتی ہیں، واضح پوزیشن رکھتی ہیں لہذا یہی ان کی عدم موجودگی میں رہنمائی کر سکتی ہیں۔
بالکل ویسے ہی جیسے میاں صاحب کی عدم موجودگی میں مریم نواز ورکر کے ہاں مرکزِ نگاہ بنیں حالانکہ وہاں ایک سے بڑھ کر ایک سینیئر رہنما موجود تھا لیکن ورکر سپورٹر کو مریم نواز میں میاں نواز شریف نظر آتا تھا۔ یہی وہ مدعا ہے جو موروثیت کے خلاف ہزاروں دلائل کو ورکر کے ہاں یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔

سپورٹر بددل ہوچکا، اس کے ہاں دستیاب قیادت بارے کچھ جائز اور کچھ ناجائز وسوسے اور تحفظات تھے (فوٹو: پی ٹی آئی سوشل میڈیا)

بہرحال! اس پیش رفت کو اب سیاسی روپ  کی نگاہ سے ہی دیکھنا ہوگا۔ سسٹم اب جب بھی صحت بارے رابطہ کرے گا علیمہ خان سے ہی کرنا ہوگا۔ معاملہ پھر صحت تک محدود نہیں رہے گا، آئندہ بھی کسی مدعے پر چرچا مقصود ہوئی تو علیمہ بی بی کا یہی استدلال کارفرما ہوگا: ’ہم ان کے اہل خانہ ہیں، ہم سے پوچھے بنا قیادت کیسے کوئی فیصلہ کر سکتی ہے؟‘ یہ جواز اب ان کے سیاسی وجود کی سچائی ہے۔
حفیظ اللہ نیازی صاحب یاد آئے، ان سے بہتر پاکستان میں اس فیملی کو شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ کئی ماہ گزر چکے جب انہوں نے خاکسار کے ساتھ ایک آن دی ریکارڈ گفتگو میں پیشگوئی کی تھی کہ علیمہ خان سیاسی روپ میں سامنے آئیں گی۔
انہوں نے تو یہ تک کہا تھا کہ اگر خان باہر نہ آیا تو لامحالہ بی بی ہی وزیراعظم کی امیدوار ہوں گی۔ نہ جانے نیازی صاحب کو سال ڈیڑھ پہلے یہ سب کیسے سوجھی؟ 
احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا؛
تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

 

شیئر: