انگلینڈ کے خلاف میچ پاکستان کے لیے بہت اہم تھا۔ سپرایٹ کے پہلے میچ میں بارش نہ ہونے سے صرف ایک پوائنٹ ملا اور انگلینڈ کے خلاف میچ جیتنا بہت ضروری ہوگیا تھا۔ پاکستان یہ میچ انگلشن کپتان ہیری بروک کی شاندار اننگ کی وجہ سے ہار گیا۔ اس میچ کو درحقیقت بروک بمقابلہ پاکستان کہا جا سکتا تھا۔ بروک نے اپنے ٹی20 کیرئر کی بہترین اننگ کھیلی اور پاکستان سے میچ چھین لیا۔
پاکستان نے بیٹنگ میں پندرہ رنز کم بنائے، آخری پانچ سات اوورز میں تیزی سے وکٹیں گر گئیں ، ورنہ ایک سو اسی رنز بن سکتے تھے۔ پاکستانی بولرز بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ سوائے شاہین شاہ آفریدی کے نئی گیند کے تین اوورز اور اور اپنے سپیل کی آخری گیند جس پر بولڈ کیا، جبکہ مڈل اوورز میں عثمان طارق کے پہلے تین اوورز کے سوا میچ میں پاکستانی بولر کچھ نہیں پیش کر سکے۔
پاکستان کی کمزور تھکی ہوئی سپن بولنگ، بری فیلڈنگ ہیری بروکس کو سنچری بنانے سے نہ روک سکی۔ ایک بہت ہی اہم میچ میں اس نے کیپٹن اننگ کھیلی اور بتا دیا کہ لیڈر شپ کیا ہوتی ہے۔ بے بسی سے انگلیاں چبانے والے شکست خوردہ پاکستانی کپتان سلمان آغا تماشا دیکھتے رہے۔
مزید پڑھیں
-
ٹی20 ورلڈ کپ: کیا انڈیا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے؟Node ID: 900998
پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں فخر زماں کو شامل کیا تھا جبکہ مسٹری سپنر ابرار احمد کو باہر بٹھایا جبکہ فہیم اشرف کو کھلایا گیا تھا۔ انگلینڈ کے لیے فہیم کی جگہ شاہین شاہ آفریدی کو کھلایا گیا۔ شاہین شاہ انجری کے بعد سے زیادہ اچھی فارم میں نہیں تھا، شاہین شاہ نے مگر عمدہ بولنگ کرائی۔ پہلی گیند پر فل سالٹ کو آؤٹ کیا۔ پہلے تین اوورز میں صرف تیرہ رنز دے کر تین وکٹیں لیں۔
چوتھا اوور اگرچہ مہنگا تھا۔ ہیری بروک نے ایک شاندار چھکا اور چوکا لگایا، اگرچہ آخری گیند پر وہ بولڈ ہوا، مگر تب تک میچ بھی ختم ہی ہوچکا تھا۔ شاہین شاہ نے چار اوورز میں تیس رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔
انگلینڈ کے خلاف میچ میں شدت سے پاکستانی کوچ کی کمزور اور دانش سے عاری حکمت عملی کی ناکامی کا احساس ہوا۔ مائیک ہیسن آل راونڈرز پر بہت یقین رکھتے ہیں اور وہ ٹیم میں آل راونڈرز کی بھرمار کرنا پسند کرتے ہیں۔ ایک سادہ بات انہیں سمجھ نہیں آتی کہ سپیشلسٹ بولرز کا کوئی جواب نہیں۔ پاکستانی سپن اٹیک میں شدت سے مسٹری سپنر ابرار احمد کی کمی محسوس ہوئی۔

پاکستانی کوچ اور کپتان نے صائم ایوب، شاداب خان اور نواز پر بھروسہ کیا، مگر یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ تینوں ہی ایک طرح کے پارٹ ٹائم سپنرز ہیں اور جب ان کی پٹائی ہوتو ان کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں۔ یہی ہوا۔ محمد نواز پر اٹیک ہوا، پہلے اوور میں سترہ رنز دے دیے۔ صائم ایوب کا پاور پلے میں پہلا اوور ہی برا گیا۔ بعد میں وہ بھی جم نہ سکا۔ شاداب خان کی بھی بروک نے پٹائی کی۔ ایک اوور میں سترہ رنز بنا لیے۔
شاداب، نواز اور صائم ان تینوں میں سے کوئی بھی انگلش کپتان کو پریشان نہیں کر سکا۔ صرف عثمان طارق واحد سپنر تھا جسے انگلش کھلاڑیوں نے احتیاط سے کھیلنے کی کوشش کی، عثمان طارق نے پھر بھی دو وکٹیں لے لیں۔ عثمان نے پہلے ہی اوور میں وکٹ لے کر بریک تھرو دیا، نجانے کیوں کپتان نے اسے اگلا اوور نہیں دیا۔ عثمان طارق کو اگلا اوور ملنا چاہیے تھا، وہ اگر تب کسی طرح ہیری بروک کو آوٹ کر لیتا تو میچ پلٹ جاتا۔ کپتان سلمان آغا کی دفاعی سوچ نقصان دہ ثابت ہوئی۔ کوئی بھی اچھا جارح مزاج کپتان رسک لیتا اور عثمان طارق کے ایک یا دو مزید اوورز کراتا۔ میچ میں صرف ہیری کی وکٹ ہی درکار تھی، وہ اگر تب مل جاتی تو پاکستان جیت جاتا۔
ہیری بروک کی اننگ غیر معمولی تھی۔ جس طرح اس نے شاندار چھکے لگائے، وکٹ کے چاروں طرف شاٹس کھیلے، میچ کی سیچوئشن کے مطابق سنگلز اور عمدگی سے ڈبلز لیے، سپنرز کے ہاتھ سے گیند کو سمجھ کر اس کے مطابق شاٹس کھیلے۔ اس سے زیادہ عمدہ، گریس فل اور بروقت اننگ اور کیا ہوسکتی ہے۔ ایک ایسے میچ میں سنچری بنائی جس میں جیت ٹیم کو سیمی فائنل میں لے گئی۔

البتہ جو مختصر ڈرامہ میچ کے آخر میں ہوا، اس کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کا میچ ہو اور کوئی ٹوئسٹ نہ آئے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ محمد نواز نے انیسویں اوور میں اچانک ہی پلٹا کھایا،ایک چالاک اور ہوشیار سپنر کی طرح اس نے اوور میں صرف دو رنز دیے، دو آوٹ بھی کر لیے، یوں آخری اوور تک میچ چلا گیا، مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، پہلی گیند پر چوکا لگ گیا اور انگلینڈ نے دو وکٹوں سے میچ جیت لیا۔
میچ میں پاکستان کی چند کمزوریاں صاف نظر آئیں۔ صائم ایوب پورے ٹورنامنٹ میں آؤٹ آف فارم رہا ،اس سے رنز نہیں ہو رہے، وہ دباؤ میں ہے۔ اسے اگر کھلانا لازمی تھا تو اوپننگ نہ کرائی جاتی۔ جب فخر زماں کو کھلایا گیا تو اسے بطور اوپنر کھلاتے یا پھر بابر اعظم ہی کو موقعہ دیتے، کم از کم وہ فاسٹ بولر کو تو بہتر کھیل لیتا ہے۔
بابر اعظم نے آج وکٹ پر کچھ وقت لیا، مگر نہایت مایوس کن سٹرائیک ریٹ سے اس نے رنز بنائے۔ آج بابر اعظم کی تکنیک ایک بار پھر ایکسپوز ہوئی۔ وہ عادل رشید کی گھومتی گیندوں کو بالکل ہی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ عادل رشید کی ایک گگلی پر بابر تقریباً بولڈ ہوگیا تھا۔ بابر کو چار سال پہلے بھی عادل رشید نے ایسے ہی آوٹ کیا تھا۔ بابر اعظم اتنے برسوں میں اپنی اس کمزوری پر کام ہی نہیں کر سکا۔ وہ ابھی تک گگلی کو پڑھ ہی نہیں پا رہا۔ یہ بڑی کمزوری ہے۔ اگر بابر اعظم سپنرز کو اتنا برا کھیلیں گے تو پھر ٹی20 میں وہ کیسے بیٹنگ کر سکتے ہیں؟ بابر کو اب کچھ عرصے کے لیے انٹرنیشنل ٹی20 کرکٹ سے دور رہ کر اپنی تکنیک پر کام کرنا چاہیے۔ موجودہ تکنیک کے ساتھ کسی اچھی انٹرنیشنل ماڈرن ٹی20 میں بابر کی جگہ نہیں بنتی۔













