Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کے یونین آف سٹیٹ خطاب کے بعد انڈیا میں پاکستانی وزیراعظم کا ذکر کیوں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یونین آف سٹیٹ سپیچ میں ایک دفعہ پھر پاکستان اور انڈیا سمیت دیگر ممالک کے درمیان جنگیں ختم کرانے کے بیان پر انڈین سوشل میڈیا پر اس بار جہازوں کی تعداد کی بجائے وزیراعظم شبہاز شریف کا ذکر ہو رہا ہے۔
انڈین سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس، انڈین میڈیا میں بھی خاص طور پر، ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے یہاں تک کہ برکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے بھی یہ پوسٹ کی گئی ہے۔
برکس کی پوسٹ میں بھی لکھا گیا کہ ’لوگوں نے کہا پرائم منسٹر آف پاکستان جان سے جا سکتے تھے‘۔

Caption

برکس کی پوسٹ کے نیچے بھی متعدد کمنٹس میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں متعدد اکاؤنٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مکمل بیان شیئر کیا اور حقیقت واضح کی۔
سیدھانت سبال نامی انڈین صحافی بھی اسی نوعیت کی سٹیٹمنٹ کو مس کوٹ کرتے دیکھے گئے، جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ ٹرمپ نے براہِ راست کہا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم جان سے جاتے اگر میری مداخلت نہ ہوتی‘۔

اصل بیان کیا تھا؟
نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع کردہ مکمل ٹرانسکرپٹ کے مطابق ٹرمپ نے مختلف ممالک کے درمیان مبینہ طور پر جنگیں رکوانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان اور انڈیا میں ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے۔ ساڑھے تین کروڑ لوگ مر سکتے تھے، پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا، اگر میں مداخلت نہ کرتا۔‘
یعنی یہاں ٹرمپ ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کے تناظر میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی بات کر رہے تھے، نہ کہ مخصوص طور پر صرف پاکستان کے وزیراعظم کے بارے میں دعویٰ کر رہے تھے۔
سیاق و سباق کیسے تبدیل ہوا؟
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں جملے کے ابتدائی حصے کو نظر انداز کر کے صرف یہ فقرہ نمایاں کیا گیا:

سکرین شاٹ: نیو یارک ٹائمز

یوں سیاق و سباق ہٹا کر اسے ایک الگ اور سنسنی خیز دعوے کی صورت میں پیش کیا گیا، جس سے تاثر ملا کہ ٹرمپ نے براہِ راست وزیر اعظم پاکستان کی جان بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
حالانکہ مکمل بیان میں وہ ایک ممکنہ ایٹمی جنگ اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا ذکر کر رہے تھے۔

سکرین شاٹ: نیو یارک ٹائمز

بعد کی صورتحال
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اصل ٹرانسکرپٹ شیئر کر کے وضاحت بھی کی کہ بیان کو مکمل سیاق و سباق میں پڑھا جائے۔ کچھ دیر بعد دیکھا گیا کہ سیدھانت سبال نے اپنی پوسٹ بھی ڈیلیٹ کر دی۔

سدھانت نے پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کے بعد دوبارہ ٹھیک بیان کے ساتھ دوبارہ ویڈیو بھی پوسٹ کی۔

اس نئی پوسٹ کے نیچے انڈین صارفین بھی مزاق کرتے دکھائی دیے اور کہا کہ وہ گلگوتیس یونیورسٹی کی ٹیچر ٹھیک کہتی تھیں کہ انگریزی کی پنکچوایشن بہت ضروری ہوتی ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مکمل جملے اور سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا، جس سے مفہوم تبدیل ہو گیا۔ اصل ٹرانسکرپٹ میں وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ اور وسیع جانی نقصان کا ذکر کر رہے تھے، نہ کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے بارے میں دعویٰ۔

 

شیئر: