حزب اللہ کا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی گذشتہ ہفتے بڑھی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے لبنان کا بارڈر پار کرتے ہوئے ایک اسرائیلی ڈرون طیارہ مار گرایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیلی ڈرون کا ضروری ہتھیاروں کے ساتھ مقابلہ کیا اور اسے مار گرایا۔
حزب اللہ کے مطابق گرایا گیا ڈرون اب ان کے پاس ہے۔ تاہم اس دعوے کے حوالے سے تاحال اسرائیل کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی گذشتہ ہفتے اس وقت بڑھی جب اسرائیل کا یہ دعویی سامنے آیا  تھا کہ حزب اللہ نے ان کا ایک ٹینک تباہ کیا۔ اسی کو جواز بنا کر اسرائیل نے لبنان پر راکٹ حملہ بھی کیا تھا۔
اس کے بعد اسرائیل نے حزب اللہ کے حملوں پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر توپ خانے سے 100 گولے داغے تھے۔

گذشتہ ہفتے حزب اللہ نے اسرائیل کی فوجی گاڑی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

سی این این کے مطابق حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقے افیفیم روڈ پر اسرائیلی فوجی گاڑی تباہ کرنے اور اس میں سوار اہلکاروں کو ہلاک و زخمی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اسرائیلی فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فوجی گاڑیوں اور اڈے پر بکتر شکن راکٹ داغے گئے جس میں بعض نشانے پر لگے ہیں تاہم کوئی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملے پر ردعمل میں کہا تھا کہ جوابی کارروائی میں گولے داغے گئے اور فضائی کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ نئی صورتحال میں لبنانی سرحدوں کے بارے میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ فوج کے سربراہ اور کمانڈروں سے صلاح مشورے کیے ہیں۔
لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’قابض‘ اسرائیلی فوج نے مارون الراس، ایتاروان اور یارون کے باہر کے علاقوں کو کلسٹر راکٹوں سے ٹارگٹ کیا۔
دریں اثنا لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکہ اور فرانس پر زور دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’قابض‘ اسرائیلی فوج کئی علاقوں پر راکٹوں سے حملہ کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم آفس کے ترجمان کے مطابق سعد الحریری نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور فرانسیسی صدر امیانویل میخواں کے سفارتی مشیر سے فون پر رابطہ کرکے دونوں ملکوں سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے علاقے کے تحفظ اور امن کو کمزور کرنے کی ایک اور مثال ہے۔

شیئر: