برطانوی پارلیمنٹ پانچ ہفتوں کے لیے معطل

نئے برطانوی قانون کے مطابق بریگزٹ کے عمل کو 31 جنوری 2020 تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ فوٹو اے ایف پی
برطانیہ کے ارکان پارلیمان نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بورس جانسن کی قبل از وقت عام انتخابات کی تحریک مسترد کر دی۔ ووٹنگ کا فیصلہ اس وقت آیا جب برطانوی پارلیمنٹ اگلے پانچ ہفتوں کے لیے معطل ہونے جا رہی ہے۔
منگل کو پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرنے کے لیے باقاعدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں غیر معمولی مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ تقریب کے دوران ایک بار پھر وزیراعظم بورس جانسن کی قبل از وقت انتخابات کروانے کی تحریک پر ووٹنگ کرائی گئی جس کواراکین کی اکثریت نے مسترد کر دیا۔
ہاؤس آف کامنز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دی گئی تفصیلات کے مطابق 434 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں سے صرف 293 ارکان نے تحریک کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 46 ارکان نے مخالفت کی۔ وزیراعظم کو تحریک کی کامیابی کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔
گذشتہ روز پیر کو ملکہ برطانیہ نے نئے قانون کی تائید کی ہے جس کے مطابق برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا عمل31 جنوری 2020 تک مؤخر ہو سکتا ہے۔ پچھلے قانون کے مطابق برطانیہ نے یورپی یونین سے رواں سال 31 اکتوبر کو علیحدہ ہو جانا تھا۔ معاہدے پر کوئی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں برطانیہ خود بخود 31 اکتوبر کو معیاری وقت کے مطابق رات گیارہ بجے یورپی یونین سے علیحدہ ہو جاتا۔ لیکن نئے قانون نے وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے درمیان پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں بریگزٹ کے عمل میں اگلے سال جنوری تک توسیع کر دی ہے۔
وزیراعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ وہ پانچ ہفتے کی معطلی کے دوران یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور حکومت علیحدگی میں مزید تاخیر نہیں کرے گی۔

برطانوی پارلیمنٹ کی معطلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہاؤس آف لارڈز کی لیڈر نیٹالی ایونز نے ملکہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ فوٹو اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ان کے ہاتھ باندھنے کے لیے جتنے بھی حربے استعمال کرے لیکن وہ قومی مفاد میں ہی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا اپوزیشن ’بریگزٹ‘ میں تاخیر چاہتی ہے، اور وہ ڈیل کے بغیر بھی یورپی یونین سے نکل سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو 31 اکتوبر تک ہر حال میں یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔
 برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کی مخالفت کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ وہ 17 اکتوبر کو یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں علیحدگی کے موجودہ معاہدے میں تبدیلیاں منظور کروا سکتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے 4 ستمبر کو بھی برطانوی پارلیمنٹ نے قبل از وقت عام انتخابات کے لیے پیش کی گئی تحریک مسترد کر دی تھی۔ تحریک کے حق میں 218 جبکہ مخالفت میں 56 ووٹ ڈالے گئے تھے۔
یاد رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیراعظم بورس جانسن نے 15 اکتوبر کو نئے انتخابات کروانے کی تجویز دی تھی۔
وزیراعظم بورس جانسن کے بھائی جو جانسن نے حکومت کی بریگزٹ پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے 5 ستمبر کو کابینہ اور پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ استعفیٰ قومی مفاد اور خاندان سے وابستگی کے درمیان الجھ جانے کی وجہ سے دیا ہے۔
جو جانسن وزیر مملکت برائے سائنس و جامعات  کے منصب پر فائز تھے اور 9 برس سے برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقے کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جو جانسن نے بریگزٹ سے علیحدگی کے معاہدے پر اعتراض کرتے ہوئے سابق وزیراعظم ٹریزامے کی کابینہ میں وزیر مواصلات کے منصب سے بھی استعفیٰ دیا تھا۔

شیئر: