وینس فیسٹول میں سوڈانی فلم کی جیت

سوڈانی ہدایتکار امجد ابوالعلا کی فلم ستموت فی العشرین (20برس کے ہوتے ہی مر جاﺅگے)نے وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں ’مستقبل کا شیر‘ایوارڈ جیت لیا ۔ فلم فیسٹول میں ایوارڈ جیتنے والی یہ سوڈان کی پہلی فلم ہے۔
الشرق الاوسط کے مطابق’ یو ول ڈائی ایٹ ٹوئنٹی ‘وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں بہترین ڈیبیو فیچر فلم کے درجے میں مزید 21فلموں کے ساتھ شامل تھی ۔
ہدایتکار ابوالعلا نے ایوارڈ لینے کے بعد کہا ’مجھے خوشی بھی ہے اور فخر بھی،تقریباً20برس سے ٹی وی پر وینس فلم فیسٹول کے مناظر دیکھتا رہا ہوں ۔ کبھی سوچا تک نہ تھا کہ ایک دن میں بھی اس اسٹیج پر کھڑا ہوں گا۔میرا تعلق ایسے ملک سے ہے جو فلمی صنعت سے ناواقف ہے ۔ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہوں جہاں کی سرکار فلمسازی کی سرپرستی نہیں کرتی تھی۔ اب میرے ملک میں آنیوالے انقلاب نے فرسودہ نظام کو نکال باہر کیا ہے ۔‘

وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں ایوارڈ جیتنے والی  سوڈان کی پہلی فلم ہے۔

سوڈانی ہدایتکار نے مزید کہا کہ’ اس فلم کی عکسبندی کا آغاز دسمبر 2018ءمیں ہوا تھا۔انہی دنوں سوڈان میں انقلاب کی شروعات ہو رہی تھی۔ یہ محض اتفاق تھا ، میرے لئے یہ فخر کی بات ہے ‘۔
سوڈانی فلم کی کہانی ’مزمل ‘ نامی ایک نوجوان کے اردگرد گھومتی ہے ۔جو بچپن ہی سے ایک پیشگوئی کا عذاب جھیلتا رہا ہے ۔وہ بچہ ہی تھا کہ اسے بتایا گیا کہ تمہاری کل عمر 20برس ہے جب 20سال کے ہو جاﺅ گے تو موت تمہیں اپنی آغوش میں لے گی ۔مزمل اس پیشگوئی سے ہمیشہ بے چینی اور پریشانی کا قیدی رہا ۔اسی دوران اسکی ملاقات فلمی فوٹو گرافر’سلیمان ‘ سے ہوئی ۔ اسی تناظر میں فلم کے مناظر آگے بڑھتے چلے گئے ۔

فلم کی کہانی ’مزمل ‘ نامی ایک نوجوان کے اردگرد گھومتی ہے

سوڈانی ہدایتکار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فلم 3برس میں تیار ہوئی۔یہ سوڈانی قلمکار حمور زیادہ کی کہانیوں کے مجموعہ’النوم عند قدمی الجبل(پہاڑ کے دامن میںنیند)‘سے ماخوذ ہے۔حمورزیادہ نجیب محفوظ ادبی ایوارڈ یافتہ ہیں۔یہ ہدایتکار ابوالعلا کے طویل ناول پر بنائی گئی پہلی فلم ہے ۔ اماراتی قلمکار یوسف ابراہیم بھی مکالمہ نویسی میں شریک رہے ۔
اسلام مبارک ،مصطفی شحاتہ ، مازن احمد ، بثینہ خالد ، طلال عفیفی ،محمود السراج اور بوناخالد نے اس فلم میں کام کیا ہے۔

شیئر: