فراعنہ کے مقبرے سیاحت کے لیے کھل گئے

دونوں مقبرے الاقصر کمشنری کے ’ذراع ابوالنجا‘مقام پر واقع ہیں ۔
مصر کی وزارت آثار قدیمہ نے تاریخی مقام الاقصر میں فراعنہ کے 2 مقبرے سیاحوں کے لیےکھول دیے۔ جنوری 2015 سے اصلاح و مرمت کا کام کیا جا رہا تھا۔
اسکائی نیوز کے مطابق دونوں مقبرے الاقصر کمشنری کے ’ذراع ابوالنجا‘مقام پر واقع ہیں۔
مصری سپریم کونسل برائے آثار قدیمہ کے سیکریٹری جنرل مصطفی وزیری نے روسی خبر رساں ادارے سپوٹنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مقبروں کی اصلاح ومرمت کا بجٹ امریکہ نے فراہم کیا تھا۔ اس پر 10لاکھ ڈالر خرچ ہوئے۔

جنوری 2015ءسے اصلاح و مرمت کا کام کیا جا رہا تھا۔

 مصطفی وزیری نے بتایا کہ پہلا مقبرہ ’رعیا‘ کا ہے اس کا تعلق فراعنہ کے 19ویں خاندان سے تھا۔یہ آمون دیوتا کا چوتھا کاہن تھا۔اس کا قبرستان زندگی کے یومیہ مناظر ،مقبرے کے سامنے نوحہ کرنیوالی خواتین کے منظر اور اس کی بیوی کی تصویر پر مشتمل ہے ۔ قبرستان میں نذرانے پیش کرنے کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔
 دوسرا مقبرہ فراعنہ کے 20ویں خاندان سے تعلق رکھنے والے ’نیای ‘ نامی شخص کا ہے۔ یہ دسترخوان نویس کے لقب سے معروف تھا۔یہ 19ویں خاندان سے لیکر 20ویں خاندان تک(13ویں صدی ماقبل مسیح سے لیکر 12ویں صدی ماقبل مسیح کے درمیان) میں اہم لقب شمار کیا جاتا تھا۔

 مقبرہ فراعنہ کے 20ویں خاندان سے تعلق رکھنے والے ’نیای ‘ نامی شخص کا ہے۔

مصطفی وزیری کے مطابق یہ دونوں مقبرے انتہائی خستہ حالت میں تھے۔مصری ماہرین نے اصلاح و مرمت کرکے انہیں تیارکردیا۔
 اب تمام سیاح ان دونوں مقبروں کی سیر کر سکتے ہیں ۔ان کےلئے الگ سے ٹکٹ لینا نہیں پڑے گا ’ذراع ابو النجا‘علاقے کا ٹکٹ لینے والے ان دونوں مقبروں کی سیر کر سکیں گے ۔
مصری وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وزارت آثارہ قدیمہ زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو یہاں لانے کےلئے واضح پروگرام تیار کئے ہوئے ہے ۔ سیاحوں کےلئے مزید تاریخی مقامات کھولے جائیں گے ۔
مقبروں کی اصلاح و مرمت میں شریک ایک کاریگر احمد علی نے سپوٹنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکن ریسرچ سینٹر کے ساتھ ملکر یہاں کام شروع کیا تھا ۔ 2برس تک روزانہ اصلاح و مرمت کا کام کرتا رہا ۔ پوری ایک ٹیم اس مشن پر مامور تھی ۔

 ذراع ابوالنجا  میں شاہی خاندان کے سیکڑوںمقبرے ہیں ۔ 

ذراع ابوالنجا کا علاقہ الاقصر شہر کے مغربی ساحل پر واقعہ ہے ۔ یہاں شاہی خاندان کے سیکڑوںمقبرے ہیں ۔ یہ فراعنہ کی وسطی ریاست کے علاوہ 18ویں خاندان سے لیکر 26ویں خاندان اور بطلمیوں کے عہد سے تعلق رکھتے ہیں ۔اس علاقے کے باشندوں کو2006ءمیں منتقل کر دیا گیا تھا۔البتہ مصری وزارت آثار قدیمہ نے یہاں موجود قبرستانوں کی اصلاح و مرمت میں مقامی لوگوں کی خدمات بھی حاصل کیں۔

شیئر: