شاہ سلمان کا فلسطینی صدر سے رابطہ

شاہ سلمان کا اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان پر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کو فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ قائم کر کے غرب اردن کا علاقہ اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کے اعلان کی مذمت کی اور فلسطینی عوام اور حکومت سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق شاہ سلمان نے اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان کو مسترد کردیااور کہا کہ سعودی عرب کیلئے یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے ۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ اگر وہ پارلیمانی انتخابات میں جیت گئے تو غور الاردن ،بحیرہ مردار کا شمالی علاقہ اور یہودی بستیوں کو اسرائیلی ریاست کا حصہ بنا دیں گے ۔

فلسطینی کاز سے  شاہ سلمان کی ذاتی دلچسپی قابل قدر ہے ،محمود عباس

شاہ سلمان نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے غرب اردن کو اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان کر کے فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف سنگین بات کہی ہے ۔ یہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔شاہ سلمان نے توجہ دلائی کہ زمینی صورتحال تھوپنے کی اسرائیلی کوشش سے فلسطینی عوام کے مسلمہ حقوق متاثر نہیں ہوں گے ۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی کاز سے  شاہ سلمان کی ذاتی دلچسپی اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی کانفرنسوں اور فورموں پر فلسطین سے متعلق سعودی عرب کا ٹھوس ، پائیدار اور فیصلہ کن موقف قابل قدر ہے ۔
فلسطینی صدر  نے کہا کہ غرب اردن سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان پر سعودی عرب نے مسلم دنیا کا مشترکہ ردعمل اجاگر کرنے ، اسرائیلی عزائم سے نمٹنے اور فوری اقدامات پر اتفاق رائے کیلئے مسلم وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے قابل قدر اقدام کیا ہے ۔انہوں نے اس حوالے سے جاری کردہ سعودی عرب کے بیان پر ممنونیت کا بھی اظہار کیا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: