عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئیں

حملوں کے بعد ماہرین تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملوں سےعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ ان حملوں کے بعد سے ماہرین تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے۔
کولمبیا یونیورسٹی میں گلوبل انرجی پالیسی مرکز کے بانی ڈائریکٹر جیسن بورڈرون نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ابقیق پلانٹ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور اس پر ڈرون حملے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں10فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور تیل کے نرخ مزید بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ کے سٹریٹیجک پٹرولیم کے ذخائر سے تیل کی سپلائی کی اجازت دینے سے تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

’آرامکو‘ پر حملوں سے سعودی عرب کی تیل کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

خیال رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ حوثیوں کے ترجمان نے کہا تھا کہ انہوں نے 10 ڈرونز کے ساتھ آئل پلانٹس پر حملے کیے تھے۔
امریکہ نے ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر ڈالی تھی تاہم ایران نے امریکی الزامات کی تردید کی ہے۔
تیل تنصیبات پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ حملے نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہیں۔
پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے مجرم کو جانتے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں مگر تصدیق اور سعودی حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
حملوں کے بعد سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اعلان کیا تھا کہ سعودی آرامکو کے پلانٹس پر ڈرون حملے کے نتیجے میں خام تیل کی ترسیل5.7 ملین بیرل (50 فیصد) تک متاثر ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر اس سے قبل بھی ڈرون حملے ہوئے ہیں لیکن ابقیق اور خریص پر کیے جانے والے حملوں سے ملکی تیل کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔

شیئر: