کے پی میں عبایا کا فیصلہ واپس

’لڑکیاں کسی بھی غیر اخلاقی حرکت سے بچنے کے لیے چادر یا عبایا پہنیں۔‘ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے طالبات کے لیے عبایا یا چاردر پہننا لازمی قرار دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔  
صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت  نے سرکاری سکولوں میں بچوں کے لیے عبایا پہنے کو لازمی قرار نہیں دیا ہے صرف ایک ضلع کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے  وہاں کے والدین کی مرضی سے عبایا پہننے کے لئے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے دیگر سکولوں میں عبایا پہننے کے لئے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا  اور نہ ہی عبایا پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
خیال رہے اس سے پہلے صوبے کے وزیر اعلی کے مشیر برائے تعلیم ضیاء بنگش نے کہا تھا کہ ہری پور میں طالبات کے عبایا پہننے کو لازمی قرار دینے کے بعد اب صوبے بھر میں اس فیصلے پر عملدرآمد کرائیں گے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں گذشتہ ہفتے محکمہ تعلیم کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں سکول کی طالبات کے لیے عبایا کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔  سرکلر میں کہا گیا تھا کہ ’لڑکیاں کسی بھی غیر اخلاقی حرکت سے بچنے کے لیے چادر یا عبایا پہنیں۔ بچیوں سے چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کی بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر یہ اقدام ضروری تھا۔‘

 ’لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے صوبے اور ملک کی روایات ہیں۔‘ فوٹو: اے ایف پی

تاہم شوکت یوسفزئی نے کہا کہ  ضلع ہری پور کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سے وضاحت طلب کی گئی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے بچیوں کے والدین کی مشاورت سے کیا ہے، تاہم یہ لازمی نہیں ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ  پردہ کرنا ہمارے مذہب اور کلچر کا حصہ بھی ہے اور یہ کوئ بری بات بھی نہیں تاہم یہ زبردستی لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچیوں کو عبایہ پہننے یا نہ پہننے کا اختیار دیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ جن سکولوں نے عبایا پہننے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے ان کو فوری طور پر نوٹیفیکیشن واپس لینے کی ہدایت کردی گئی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ حکومت نے نہیں کیا تھا۔
ضیاء بنگش نے کہا تھا کہ لڑکیوں پر سکولوں کے اندر عبایا پہننے کی کوئی پابندی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ فیصلہ سکول سے گھر اور گھر سے سکول تک کے لیے کیا گیا ہے تاکہ طالبات جب گھر سے سکول تک آئیں تو مکمل طور پر کور ہوں اور عبایا لیں۔ ان پر سر سے پاؤں تک چادر ہو۔‘
صوبائی مشیر نے کہا تھا کہ ’لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے صوبے اور ملک کی روایات ہیں، ہم اس کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنے کلچر اور دین کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ اب اس فیصلے پر صوبے بھر میں عملدرآمد کرنے جا رہے ہیں۔‘

محکمہ تعلیم ہری پور کی طرف سے جاری ہونے والے سرکلر کی کاپی

اس حکومتی فیصلے کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین بھی ملے جلے رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
سینئر صحافی انصار عباسی نے کھل کر کے پی حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی ہے اور اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت اور باقی صوبے بھی اس کی پیروی کریں۔
شہیرا نامی صارف نے لکھا کہ طالبات کے لیے ڈریس کوڈ جنسی ہراسیت کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کسی بھی جرم کا بوجھ اس کے شکار فرد پر نہیں ڈالتے۔ اگر آپ کچھ شروع کرنا ہی چاہتے ہیں تو عورت سے نفرت اور اس ذہنیت کے کرداروں کے خلاف کچھ کریں۔
ایک ٹویٹر صارف قرات العین (عینی) نے لکھا کے پی حکومت محکمہ تعلیم کو ٹھیک نہیں کر سکی اس لیے انہوں نے سکول کی چھوٹی بچیوں کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم کب عورتوں کے لباس سے متعلق بیمار ذہنیت سے باہر نکلیں گے اور تعلیم پر توجہ دیں گے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: