تیل کے نرخوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

سعودی عرب میں حملے کے بعد تیل کی عالمی منڈی متاثر ہوئی فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب کا شمار دنیا میں تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے ۔ تیل کی عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کی بڑی وجہ  یہاں کے حالات و واقعات بھی ہیں۔ 
گذشتہ ہفتے  ابقیق کمشنری میں آرامکو کمپنی کے 2 پلانٹس پر ہونے والے حملے کے بعد تیل کی عالمی منڈی بھی ان سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئی۔
سبق نیوز نے برطانوی خبر رساں ادارے  روئٹرز  کے  سروے کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا کہ گذشتہ 3 دہائیوں کے مقابلے میں خام تیل کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 

 تیل   تنصیبات  پر ہونے والے حملوں نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھا دیا  فوٹو: سعودی نیوز     

سروے میں  بتایا گیا  کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملے کے اثرات سے تیل کی عالمی منڈی پر بھی مرتب ہوئے اور خام تیل کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ 30 برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ مانا جا رہا ہے۔ 
جائزہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1988 کے بعد سے عالمی منڈی میں ایک ہی دن کے اندرفی بیرل خام تیل کے نرخو ں میں 8.80 ڈالر کا اضافہ ہو اور اتنا زیادہ اضافہ ایک ہی دن میں گذشتہ 30 برسوں میں نہیں دیکھا گیا۔
توانائی کے شعبے میں عالمی مارکیٹ کے تجزیہ کارامریکی ماہر ٹونی ہینڈریک کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کی پیٹرول تنصیبات  پر ہونے والے حملوں نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھا دیا‘۔ 
تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کی بنیادی وجہ ان تنصیبات پر ہونے والے حملے ہیں جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی، طلب کے مطابق پوری نہ ہو سکی ۔

 گزشتہ 30 برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ مانا جارہا ہے فوٹو: سعودی نیوز     

’منڈی کے قدیم  اصول کے مطابق طلب میں اضافہ اور رسد میں کمی قیمتوں میں اضافہ کا بنیادی سبب ہوتے ہیں ۔ یہ وہ قدیم اصول ہے جو ہر مارکیٹ پر لاگو ہوتا ہے ۔ اسی اعتبار سے تیل کی عالمی منڈی میں بھی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے‘۔
واضح رہے گذشتہ سنیچر کو سعودی عرب کے مشرقی ریجن میں ابقیق کمشنری میں تیل کی 2 بڑی تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کے اثرات تیل کی عالمی منڈی پر بھی بری طرح پڑے ہیں ۔ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کے نرحوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: