’حملے کا مقصد معیشت کو متزلزل کرنا تھا‘

حملے کا مقصد بین الاقوامی معیشت کو متزلزل کرنا تھا، شاہ سلمان (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور تمام تنصیبات کا دفاع کسی بھی حملہ آور سے کر سکتا ہے۔
انہوں نے ابقیق اور خریص میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملوں کو بزدلانہ عمل قرار دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان منگل کو جدہ کے قصر السلام میں اپنی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ تیل تنصیبات پر بزدلانہ حملے سعودی عرب ہی نہیں بلکہ عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے کے لیے کیے گئے۔ ان کا مقصد بین الاقوامی معیشت کو متزلزل کرنا تھا۔
یاد رہے کہ 14 ستمبر کی صبح سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر فضائی حملوں کے نتیجے میں مملکت کی تیل اور گیس پیداوار 50 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔

 حملوں سے سعودی عرب ہی نہیں عالمی تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے(فوٹو:ایس پی اے)

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 10 ڈرونز کے ذریعے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کیا۔ دوسری جانب ان حملوں کا الزام ایران پر لگایا جا رہا ہے تاہم ایران ان الزامات کی تردید کر رہا ہے۔
شاہ سلمان نے تیل تنصیبات پر تخریبی حملے کی مذمت کرنے پر تمام قائدین، ممالک کے سربراہوں، وزرائے اعظم اور علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے قائدین کا شکریہ ادا کیا۔

 

سعودی کابینہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی پشت پناہی کرنے والے فریق کی مذمت کرکے اپنا کردار ادا کرے اور بین الاقوامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنے کی کوشش کرنے والی طاقت کا مقابلہ کھل کر کرے۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کابینہ کو ابقیق اور خریص میں سعودی تیل تنصیبات پر حملے سے ہونے والے بھاری نقصانات کے حوالے سے رپورٹ بھی پیش کی۔
کابینہ نے واضح کیا کہ تیل تنصیبات پر یہ بزدلانہ کارروائی دنیا بھر میں خام تیل کے سب سے بڑے اور اہم مرکز پر حملہ تھا۔ یہ اہم تنصیبات پر بار بار ہونے والے حملوں میں سے ایک تھا۔ سابقہ حملوں سے جہاز رانی کی آزادی متاثر ہوئی اور بین الاقوامی معیشت کی شرح نمو پر بھی برا اثر پڑا۔

شیئر: