'افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں‘

عمران خان کے بقول چین نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مداخلت نہیں کی، فوٹو: پی آئی ڈی
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے، صدر ٹرمپ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کرنے سے قبل پاکستان سے بات کرنا چاہیے تھی۔
نیویارک میں تھنک ٹینک ’کونسل آن فارن ریلیشنز‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہیں گے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور انہیں طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے قائل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے دہشت گرد حملے کے بعد مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا لیکن جب آپ جنگ اور بات چیت ساتھ ساتھ کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔‘
ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ طالبان سے بات بھی کرنا چاہتے تھے لیکن افغان حکومت نے انہیں منع کر دیا۔‘

ٹرمپ نے کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ انہوں نے خود کیا، فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ’وہ دیانت داری سے سمجھتے ہیں کہ یہ طالبان نہیں جو 2001 میں تھے۔ اب بہت کچھ بدل چکا ہے اور وہ ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ سخت گیر موقف بھی نہیں رکھتے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے نائن الیون کے بعد امریکی جنگ میں شامل ہو کر تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی۔ اس جنگ سے پاکستانی معیشت کو 150 سے 200 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا جبکہ 70 ہزار سے زائد جانیں بھی چلی گئیں۔‘
وزیراعظم کے بقول 2008 میں دورہ امریکہ کے دوران انہوں نے ڈیموکریٹس کو بتا دیا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’انڈیا نے پلوامہ حملے کا پاکستان پر الزام لگایا تو ہم نے ثبوت مانگے، انڈیا نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کر دی، اس پر ہمیں اندازہ ہوا کہ انڈیا ہمیں ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ چاہے کرتارپور راہداری کا معاملہ ہو یا افغان پالیسی کا، ان کی حکومت کی ہر پالیسی کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔
 

وزیراعظم کے بقول انڈیا پلوامہ کا الزام لگا کر پاکستان کو بلیک لسٹ کرنا چاہتا تھا، فوٹو: روئٹرز

عمران خان نے کہا کہ ’انڈین حکومت صرف آر ایس ایس کے ایجنڈے پر چل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان دو طرفہ بات چیت کرنا چاہتا ہے تو انڈیا مذاکرات سے انکار کر دیتا ہے، جب ہم بین الاقوامی ثالثی کی بات کرتے ہیں تو انڈیا کہتا ہے کہ کشمیر دوطرفہ مسئلہ ہے۔‘
وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ’وہ جنگ کے مخالف ہیں۔ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی، جنگ سے ایک مسئلے کا حل نکالیں گے تو مزید پانچ مسائل جنم لے لیں گے۔‘
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے کبھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مداخلت نہیں کی۔
عمران خان نے کہا کہ ’جس طرح چینی حکومت کرپشن سے نمٹی ہے بدقسمتی وہ نہیں نمٹ سکتے کیونکہ ان کے پاس چینی ماڈل نہیں ہے۔‘

عمران خان کہتے ہیں کہ انڈیا میں ہندو بالادستی کی پالیسی جاری ہے، تصویر: اے ایف پی

انڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا، یہ گاندھی اور نہرو کا انڈیا نہیں، گذشتہ چھ برس سے وہاں ہندو بالادستی کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے، اسی پالیسی نے گاندھی کا قتل کیا اور اسی پالیسی پر ملک میں تین مرتبہ پابندی بھی لگ چکی ہے اور وہ اس بارے میں فکر مند ہیں۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: