سعودی عرب میں افراط زر کی شرح فروری میں کم ہو کر 1.7 فیصد رہ گئی
سعودی عرب 2026 میں تقریبا دو فیصد سالانہ افراط زر برقرار رکھے گا۔ (فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب میں سالانہ افراط زر کی شرح فروری میں 1.7 فیصد تک کم ہوئی جو ایک سال کی سب سے کم ترین سطح ہے، خوراک کی مستحکم قیمتوں نے مکانات کے کرائے کے مسلسل دباو کو کم کرنے میں مدد کی۔
کنزیومر پرائس انڈیکس جنوری میں 1.8 فیصد سے کم ہو کر 1.7 فیصد ہوگیا جو فروری 2025 میں ریکارڈ سطح کے مطابق ہے۔
یاد رہے آئی ایم ایف نے اکتوبر میں کہا تھا کہ سعودی عرب 2026 میں تقریبا دو فیصد سالانہ افراط زر برقرار رکھے گا۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کی رپورٹ میں کہا گیا اس کی بنیادی وجہ رہائش، پانی و بجلی اور دیگر ایندھن کے نرخوں میں 4.1 فیصد جبکہ ٹرانسپورٹیشن کی قیمتوں میں 1.4 فیصدِ، ریستوران و فرنشڈ اپارٹمنٹس و ہوٹلوں کے اخراجات میں 1.9 فیصد اضافہ ہے۔
فروری 2026 میں رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ مکانات کے کرایوں میں 5.1 فیصد اضافہ تھا۔
ڈرانسپورٹیشن کی قیمتیں بھی 1.4 فیصد بڑھیں جبکہ ریستوران اور رہائش کی خدمات میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
فروری 2025 کے مقابلے میں سالِ رواں سونے و جواہرات و قیمتی گھڑیوں کی قیمتوں میں 29 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ذاتی ضروریات کی اشیا میں اضافہ 26.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
سوشل سیکورٹی کے نرخوں میں 1.3 فیصد جبکہ سپورٹس و ثقافتی وتفریحی سرگرمیوں میں 1.8 فیصد، اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن میں 1.1 فیصد اضافہ ہوا۔
گھریلو فرنیچر وغیرہ کی قیمتوں میں 0.9 فیصد کمی ہوئی جبکہ کارپٹس اور اسی شعبے کی اشیا میں قیمتوں میں 3.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
