پاکستان بنگلہ دیش سے ون ڈے سیریز ہار گیا، مگر آخری ون ڈے میں وہ فائٹ نظر آئی جو پاکستانی شائقین عرصے سے مس کر رہے تھے۔ پاکستانی ٹیم نے اچھا کلوز مقابلہ کیا اور ایک اچھے خاصے بڑے ٹوٹل کا تعاقب آخری اوور تک کیا۔ اگر سپنر رشاد حسین آخری اوور بہت اچھا نہ کرا جاتا تو ممکن ہے پاکستان جیت بھی لیتا۔ پاکستان بنگلہ دیش سے دوسری بار باہمی ون ڈے سیریز ہارا ہے۔ شکست ہمیشہ ناپسندیدہ اور لاوارث ہوتی ہے ۔اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ تاہم اس سیریز سے مجموعی طور پر پاکستان کو دو چار سبق بھی ملے ہیں۔
کمزور آل راونڈرز ٹیم پر بوجھ ہیں
ایک بار پھر یہ واضح ہوا کہ ون ڈے کرکٹ ٹوٹے پھوٹے آل راونڈرز کے زور پر نہیں کھیلی جا سکتی۔ ٹیم کو سپیشلسٹ بلے باز، سپیشلسٹ بولرز درکار ہوتے ہیں۔ فہیم اشرف اور حسین طلعت جیسے آل راونڈرز آخری تجزیے میں ٹیم پر بوجھ ہی ثابت ہوتے ہیں۔ وہ نہ میچ میں ایک بولر کا پورا کوٹہ کرانے کے اہل ہیں اور نہ ہی وقت پڑنے پربڑی اننگز کھیل پاتے ہیں۔ پاکستان کو نوجوان کھلاڑیوں میں جینوئن آل راونڈر ڈھونڈنے چاہییں، جب تک وہ نہیں ملتے تب تک سپیشلسٹ کھلاڑیوں پر بھروسہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں
-
اس کھیلنے سے بہتر تھا بائیکاٹ ترا، عامر خاکوانی کا تجزیہNode ID: 900701
-
پاکستانی ٹیم نے ایک بار پھر حیران کر دیا، عامر خاکوانی کا تجزیہNode ID: 901788
البتہ جیسے معاز صداقت اوپنر ہے اور ساتھ چند اوورز کرا سکتا ہے یا پھر سعد مسعود سپیشلسٹ لیگ سپنر ہے، مگر بیٹنگ میں کچھ رنز بھی بنا سکتا ہے، ایسے کھلاڑیوں کو موقع ضرور دیا جائے جو اپنی بیٹنگ یا بولنگ میں سے کم از کم کسی ایک کے زور پر ٹیم میں میرٹ پر جگہ پا سکیں۔
فہیم اشرف اور حسین طلعت دونوں ایسے ہیں کہ نہ وہ بطور بلے باز ٹیم میں آ سکتے ہیں اور نہ بولر کے طور پر۔ ایسے کمزور، تھکے ہوئے آل راونڈرز سے اب جان چھڑا لینی چاہیے۔
ٹیلنٹ موجود، گرومنگ کی ضرورت
پاکستان اس سیریز کے لیے کئی نوجوان کھلاڑی لے کر گیا تھا جن میں سے چار کو ڈیبیو کرایا گیا۔ دو بلے بازوں معاذ صداقت اور شمائل حسین کو پہلے دو ون ڈے میچز میں کھلایا گیا، جبکہ تیسرے کے لیے سپنر سعد مسعود اور ہٹر غازی غوری کو کھلایا گیا، جبکہ عبدالصمد کو بھی تینوں میچز میں موقع ملا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ موجود ہے۔ یہ باصلاحیت نوجوان انڈر19 اور شاہینز سے کھیل کر اوپر آئے، ڈومیسٹک بھی کھیلے ہیں۔ معاذ صداقت نے دوسرے ون ڈے میں ایک نہایت پُراعتماد اننگز کھیل کر اپنی افادیت ثابت کی۔ سپنر سعد مسعود کو تیسرا ون ڈے ملا، اس نے بولنگ میں اگرچہ کچھ زیادہ رنز دیے مگر مناسب بیٹنگ کی۔ نوجوان لیگ سپنر کے پاس ورائٹی ہے، اسے مزید میچز ملنے چاہییں۔

نوجوان غازی غوری اچھا پاور ہٹر ہے، اس نے پہلی گیند پر زوردار چھکا لگا دیا۔ اسے مشکل پچ پر اوپر بھیجا گیا جب ناہید رانا اور تسکین بہت اچھی تیز بولنگ کرا رہے تھے، گیند ایکسٹرا باونس لے رہی تھی، مستفیض بھی اچھے کٹر کرا رہا تھا۔ غازی غوری اور عبدالصمد دونوں نے 50 رنز کی پارٹنرشپ بنائی اور اچھی بولنگ کو ڈیل کیا۔
ویسے وہاں پر نوجوان عبدالصمد کی جگہ سلمان آغا کو آنا چاہیے تھا۔ سلمان آغا کو نجانے آج دیر سے بھیجنے کی کیا وجہ تھی۔ تین وکٹیں ابتدا ہی میں گر گئیں، سلمان آغا کا نمبر بھی تھا، دباؤ میں تجربہ کار بلے باز کو بھیجنے کے بجائے ان دونوں نوجوان کھلاڑیوں کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا گیا؟ کیا ان کا ٹمپرامنٹ چیک کرنا تھا؟ کسی ڈیبیو میچ میں ایک نوجوان کھلاڑی کو اس طرح چیک کرنا بے رحمانہ سا لگا۔ ان لڑکوں (معاذ، عبدالصمد، غازی غوری) کو مگر مزید مواقع ملنے چاہییں۔
شمائل حسین ناکام تو ہوا ہے، مگر اس کی تکنیک میں بھی مسائل نظر آئے۔ اس کا بیٹنگ سٹانس تھوڑا ٹھیک ہونے والا ہے، وہ شارٹ آف لینتھ گیندوں پر مشکل میں پڑا، اس کا سر بھی ساکت نہیں رہتا، ہک شاٹ کھیلتے ہوئے بیلنس خراب ہو جاتا ہے۔ شمائل کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنی چاہیے۔ اس پر اکیڈمی میں تکنیک درست کرانے کا کام بھی ہونا چاہیے۔

ایک چیز جو بار بار محسوس ہو رہی ہے وہ پاکستان کو ایک اچھے بیٹنگ کوچ کی ضرورت ہے۔ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں سکھا نہیں پا رہے اور وہ ٹیلنٹ ہونے یا ابتدائی پرفارمنسز کے بعد ٹیم سے آوٹ ہو جاتے ہیں۔ حسن نواز اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ حسن نواز کو سپنرز کے خلاف مشکل آ رہی ہے تو اسے اچھی پروفیشنل کوچنگ درکار ہے۔ محمد حارث کو بھی۔ صاحبزادہ فرحان کو بھی ون ڈے کرکٹ کے لیے مزید محنت اور کوچنگ چاہیے۔
معاذ صداقت کو بھی سمجھانا چاہیے کہ وہ ٹی20 نہیں ون ڈے کرکٹ کھیل رہا ہے جہاں 160 کے سٹرائیک ریٹ سے چند رنز بنانے کے بجائے 100، 110 کے سٹرائیک ریٹ سے بڑی اننگز کھیلنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان معاذ نے آج آتے ہی چھکا لگایا اور پھر دوسرا غیرضروری شاٹ کھیلتے ہوئے وکٹ گنوا دی۔ یوں وکٹ تھرو کرنا غلط ہے۔ ایک میچ میں 50 کا مطلب یہ نہیں کہ اگلے میں کچھ نہ کیا جائے۔ معاذ صداقت کو بتانا چاہیے کہ پہلے 10 اوور کی 60 گیندوں پر اگر 70 رنز بن جائیں تو یہ اچھی کارکردگی ہے۔ 15 اوورز یعنی 90 گیندوں پر 100 رنز بنا لینا بہت عمدہ ہے، یہ 100، 110 سٹرائیک ریٹ بنتا ہے۔ یہ چیزیں کوچز نے بتانا ہوتی ہیں۔ پاکستانی ٹیم کو محمد یوسف یا یونس خان جیسے اچھے بیٹنگ کوچ چاہییں۔

سلمان آغا نے خود کو ثابت کیا
سلمان آغا نے پچھلے میچ میں بہت عمدہ نصف سینچری بنائی۔ وہ ایک افسوس ناک واقعے میں رن آؤٹ ہوئے ورنہ شائد سینچری ہی بنا ڈالے۔ آج سلمان آغا جب کھیلنے آئے تو ٹیم شدید دباؤ میں تھی، 67 رنز پر چار آؤٹ ہو چکے تھے، سلمان آغا نے بہت اچھی سینچری بنائی اور فتح کے بہت قریب لے آئے۔ اگر دیگر کھلاڑی بھی ویسا ساتھ دیتے تو پاکستان میچ جیت جاتا۔ سلمان آغا نے ثابت کیا ہے کہ وہ ون ڈے فارمیٹ کا بہترین کھلاڑی ہے۔ اس نے آج اچھی بولنگ بھی کرائی۔ سلمان آغا کی طرح بابر اعظم بھی ون ڈے فارمیٹ کا بہترین کھلاڑی ہے۔ اسے بھی ون ڈے ٹیم میں لازمی شامل کرنا چاہیے۔ محمد رضوان کی بھی جگہ بنتی ہے۔ تاہم رضوان کو اپنی تکنیک پر کام کرنا چاہیے، وہ اس سیریز میں بہت بری طرح آؤٹ ہوا ہے۔ جس طرح اس نے آج بیٹ اینڈ پیڈ گیپ دیا اور بولڈ ہوا، وہ افسوس ناک تھا۔
پاکستانی کوچز نے بنگلہ دیش کو ایزی لیا
یوں لگ رہا ہے جیسے پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے بنگلہ دیش کو ایزی لیا۔ ان کا خیال تھا کہ شائد بنگلہ دیش سپن فرینڈلی پچز بنائے گا، تاہم بنگلہ دیش نے اپنی فاسٹ بولنگ کو اچھا استعمال کیا۔ ناہید رانا جو مین آف دا سیریز بھی بنے، انہوں نے خاصی تیز بولنگ کرائی اور 90 میل فی گھنٹہ سے زیادہ تیز گیندیں کرا کر پاکستانی بلے بازوں کو پریشان کیے رکھا۔ تسکین نے بھی آج اچھی بولنگ کرائی جبکہ مستفیض الرحمن تو اچھا تجربہ کار فاسٹ بولر ہے ہی۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ بنگلہ دیشی بولنگ نے پاکستانی بولنگ سے بہتر کارکردگی دکھائی اور یہی فرق رہا۔ پاکستانی بولنگ نے زیادہ رنز دیے اور پھر بیٹنگ کو مشکل اٹھانا پڑی۔

ویسے تو بنگلہ دیش ٹیم پوری سیریز میں پاکستان سے بہتر کھیلی، دوسرا میچ البتہ استثنا رہا، مگر اس میں بھی پاکستانی بیٹنگ کولیپس ہوئی۔ پاکستان کو ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے بہتر کمبی نیشن بنانے کی ضرورت ہے۔اپنی ٹیم میں اچھے نوجوان فاسٹ بولرز بھی ابھی سے شامل کیے جائیں، ایسے جو مخالف ٹیم پر دباو ڈال سکیں۔ سفیان مقیم جیسے اچھے مسٹری سپنر کو بھی ٹیم میں لانا چاہیے۔ وہ میچ وننگ بولر ہے۔ اسے مواقع ملنے چاہییں۔












