سعودی خواتین کی غیر ملکی اولاد کو شہریت دینے پر غور

مجلس شوریٰ شہریت دینے کے قانون میں نظر ثانی کی سفارش منظور کی ہے (فوٹو: سبق)
سعودی مجلس شوریٰ نے غیر ملکی شوہروں سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کی اولاد کو شہریت دینے کے قانون میں نظر ثانی کے مسودے کی منظوری دیدی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق مجلس شوریٰ کی کمیٹی کے سربراہ جنرل علی التمیمی نے بتایا ہے کہ مجلس شوریٰ نے غیر ملکی سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کی اولاد کو شہریت دینے کے قانون میں نظر ثانی کی سفارش منظور کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مجلس شوریٰ کے آئندہ اجلاس میں نظر ثانی کا مسودہ پیش کیا جائے گا جس پر ارکان شوریٰ غور و خوض کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی خواتین کی غیر ملکی اولاد سعودی عرب کا بنیادی سماجی مسئلہ ہے۔

سعودی خواتین کی غیر ملکی اولاد سعودی عرب کا بنیادی سماجی مسئلہ ہے (فوٹو: واس)

التمیمی نے کہا ہے کہ آئندہ اجلاس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آخر سعودی خواتین کی غیر ملکی اولادکی صحیح تعداد کتنی ہے۔ ہمارے ملک میں کتنی شہری خواتین ہیں جنہوںنے غیر ملکیو ں سے شادی کررکھی ہے۔
مجلس شوریٰ اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ سعودی خواتین کی غیر ملکی اولاد کو کیا سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی شہریت کے قوانین کے مطابق غیر ملکی سے شادی کرنے والی سعودی خاتون کی اولاد کو سعودی شہریت نہیں دی جاتی۔ وہ باپ کی شہریت پر رہتے ہیں۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: