بچے جو کھیلنے گئے مگر واپس نہ آئے

انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے زینب کیس کے بعد حکومت سے بچوں کے تحفظ کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یہ حقیقت ہے کہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ معمول کا خبرنامہ سنتے  ہوئے ایک خبر سنتے ہی رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ خبر کچھ اس طرح تھی کہ چونیاں سے ایک اور بچے کی باقیات برآمد، ۔یہ دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا کہ کیا ہم اتنے سنگ دل ہو چکے ہیں کہ جب کبھی ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو ہم چند روز خوب واویلا مچاتے ہیں، بین کرتے ہیں، وہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے اور اس کے چند روز بعد ہم سب کچھ بھول کر روزمرہ کی خبروں میں پڑ جاتے ہیں اور پھر نئے ٹرینڈز پر واویلا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے۔۔۔؟

قصور میں پیش آنے والے زیادتی کے پے در پے واقعات سے نہ صرف قصور بلکہ پورے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ پھول جیسے بچے درندوں کے نشانے پر ہیں اور آئے روز بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اور اب چونیاں سے ملنے والے بچوں کی لاشوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور پولیس عوام کو تحفط فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہو گئی ہے۔
خدارا۔۔! کشمیر کا مقدمہ لڑنے سے پہلے ان معصوموں کا مقدمہ تو لڑ لو جو آزاد ملک کے ایک آزاد علاقے میں جی رہے ہیں اور جن کی سانسیں پل بھر میں  گھونٹ دی جاتی ہیں۔ زیادتی کے بعد اس بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے کہ پہچاننے کے قابل نہیں رہتے۔
دو بچوں کے والدین سے جب میری بات ہوئی تو الفاظ میرے حلق میں کہیں اٹک گئے، آنسوؤں پر قابو نہ تھا۔۔۔ کن لفظوں میں اس باپ کو دلاسہ دیتی جو رو رو کربتا رہا تھا کہ میرے بچے کے صرف کپڑے ملے ہیں وہ بھی ڈی این اے کے لیے اسلام آباد بھجوائے جا چکے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے احتجاج ہوتے رہتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ وہ معصوم جن کی عمریں سات آٹھ یا بارہ سال بتائی جاتی ہیں، انہیں مسل کر رکھ دیا گیا۔
قصور ہی کی ننھی  زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد یہ سوچا جا رہا تھا کہ اب ایسے واقعات نہیں ہوں گے یا  ان میں کمی واقع ہو گی۔ لیکن زینب کے واقعے کے بعد ہم نے کیا سیکھا۔۔۔؟ اب قتل کے ان تازہ دلخراش واقعات کا تدارک کون کرے گا؟۔۔۔۔۔ یہ ذمہ داری کس کی ہے۔۔۔ حکومت کی یا ہماری اپنی۔۔؟
جے آئی ٹی بنانے سے ، چند پولیس افسران معطل کرنے اور مذمت کرنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔ بچوں کے تحفط کے لیے ایک مضبوط نظام وجود میں لانے کی ضرورت ہے۔ ہم ہمیشہ ایسے واقعات  پیش آنے کا انتظار کیوں کرتے ہیں۔۔۔؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے پہلے سے ہی اقدامات عمل میں لائے اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ کیونکہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نجانے ہم مزید کتنے پھولوں کو ان درندوں کے ہاتھوں مسلتا ہوا دیکھیں گے۔ روز آخرت ان بے گناہ معصوم پھولوں اور ان کے والدین کو کون جواب دہ ہو گا؟

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر:

متعلقہ خبریں