کیونکہ سب کچھ گوگل سرچ میں نہیں ملتا

پاکستانی خواتین کی اوسط عمر تقریباً 67 برس ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
کہا جاتا ہے “بچوں سے گھر کی رونق ہوتی ہے تو بزرگوں سے گھر میں برکت اور ہم سب یہ برکتیں سمیٹتے رہیں تو ہی اچھا ہے۔ یکم اکتوبر کو دنیا بھر میں بزرگوں کا عالمی دن منایا جاتا یے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی طرف سے 1999 میں  پہلی مرتبہ عالمی سطح پر منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد بزرگ شہریوں کو درپیش چیلنجز  کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا اور ان کے حل کے حوالے سے ضروری اقدامات کرنا ہے-
اقوام متحدہ کے مطابق 60 سے 65 سال کی عمر کے افراد کا شمار معاشرے کے بزرگ شہریوں میں ہوتا ہے اور 2050 تک دنیا میں یہ تعداد دو ارب تک پہنچ جائے گی جو کہ 2015 میں صرف 90 کروڑ کے لگ بھگ تھی۔
پاکستان کے اعدادوشمار کی بات کی جائے تو ادارہ برائے شماریات کے مطابق کل آبادی کا چار اعشاریہ دو فیصد حصہ بزرگ شہریوں پر مشتمل ہے۔ 2050  تک یہ تناسب 15 اعشاریہ آٹھ فیصد تک پہنچ جاہے گا۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں اوسط عمر ساڑھے 66 برس ہے۔ پاکستانی خواتین کی اوسط عمر تقریباً 67 سال جبکہ مردوں کی اوسط عمر لگ بھگ 65 برس کے برابر ہے۔
اگر ہم اپنے معاشرتی نظام کی بات کریں تو بزرگوں کی موجودگی بہت سے خاندانی مسائل سے نجات کا باعث ہے۔ جہاں بزرگ اپنے تجربات کی روشنی میں بہتر مشورے دیتے اور ان کے حل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن دنیا کی ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے اور جدید ٹیکنالوجی کے ہتھے چڑھنے کے بعد ہم اپنے بزرگوں اور ان کے مفید مشورں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب شام ہوتی تھی اور سب دسترخوان پر بیٹھتے تھے تو دادا، دادی، اماں، ابا اپنے بچوں سمیت سب باتیں کرتے تھے اور سیکھتے تھے، اب لوگوں کی پڑھنے لکھنے کی عادت  جدید ٹیکنالوجی نے بدل دی ہے۔ نتیجتا اب پوچھنے اور سوال کرنے کے بجائے سب گوگل پر سرچ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تھوڑی دیر بزرگوں کے پاس بھی بیٹھ جانا چاہیے کیونکہ سب کچھ گوگل پر نہیں ملتا۔

تھوڑی دیر بزرگوں کے پاس بھی بیٹھ جانا چاہیے کیونکہ سب کچھ گوگل پر نہیں ملتا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

 روز بروز بڑھتی ہوئی معاشی ضروریات نے گھر کے ہر فرد کو روزگار کے گورکھ دھندے میں اتنا الجھا دیا ہے کہ سب شام کو گھر لوٹتے ہیں اور اپنا اپنا م فون ہاتھوں میں تھامے کمروں میں گھس جاتے ہیں۔ جس سے گھر کے بزرگ  تنہاِئی  کا شکار ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور ان کا یہی ذہنی الجھاؤ پھر نفسیاتی اور جسمانی معذوری کا باعث بنتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بزرگوں کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں طبی سہولیات کا فقدان، پیینشن، خوراک کی کمی، معاشرتی تحفظ اور ٹرانسپورٹ جیسے مسائل شامل ہیں۔ پاکستان میں بزرگوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی بھی قومی پالیسی موجود نہیں ہے جس سے مغربی ممالک کی طرز پر بنیادی سہولیات پوری کی جا سکیں تاکہ وہ اپنی زندگی کے مشکل  دن سکون سے گزار سکیں۔
بزرگوں کے لیے تفریحی، طبی، معاشرتی  اور معاشی سہولیات کی فراہمی کے لیے جہاں کیمونٹی اور حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے وہیں پر اولاد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی مصروف زندگیوں میں سے روز کچھ گھنٹے اپنے بزرگوں کے ساتھ گذاریں۔ انٹرنیٹ، موبائل، ٹی وی کی دنیا سے باہر نکلیں کیونکہ وہ بزرگ اگر اپنی زندگیوں میں تنہا ہو گئے اور اس تنہائی کے عادی ہو گئے توبات بات پر بلاوجہ دعا دینے والے اس دنیا سے خاموشی سے رخصت نہ ہو جائیں اور پھر آپ ہاتھ ملتے رہ جاسکتے ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: