Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حدودِ شمالیہ میں افطار کے لیے خاندان کے سربراہ کے گھر جمع ہونے کی قدیم روایت

خاندان کے سارے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
حدودِ شمالیہ میں رمضان کا مہینہ افطار کے لیے خاندان کے سربراہ یا بزرگ کے گھر میں جمع ہونے کی قدیم روایت کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق بیٹے، بیٹیاں اور پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں، افطار کے وقت ایک ہی مقام پر اکٹھے ہو جاتے ہیں جس سے خاندان کی طاقت کا پتہ تو چلتا ہے مگر علاقے کی سماجی میراث بھی خوب نکھر کر سامنے آ جاتی ہے۔
کبھی کبھی تو خاندان کے سارے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اکٹھے ہوتے ہیں تو کبھی کچھ خاص دنوں میں ایسا کرتے ہیں۔
افطار کے بعد کھانے میں انھیں روایتی ڈشیں جن میں جریش ( جسے گندم، دودھ، گوشت اور دیگر مسالہ جات سے تیار کیا جاتا ہے) اور القرصان (گوشت اور سبزیوں کی یخنی میں گندم کی روٹی بھگو کر بنائی جانے والی ڈش) ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ عربی کافی کےساتھ کھجوریں بھی ہوتی ہیں۔
خاندان کے یوں ایک جگہ جمع ہونے سے بزرگوں کے لیے احترام کا رشتہ پروان چڑھتا ہے اور نوجوانوں کو باہمی طور پر اور بڑوں سے بات چیت کرنے کے آداب سیکھنے میں بھی آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

اس سے مملکت میں فیاضی اور رشتہ داری کی اقدار کو تقویت ملتی ہے اور نوجوان نسل کو یکجہتی کا تصور سمجھ آتا ہے اور انھیں اپنی ثقافتی وراثت سے جوڑ دیتا ہے۔
آج کل کی جدید اور تیزی سے دوڑتی ہوئی زندگی کے باوجود، کسی بڑے یا اپنے کسی بزرگ کے گھر میں افطار کی روایت، حدودِ شمالیہ میں بہت مضبوط ہے جس سے وہاں کی کمیویٹی کے خاندانی تعلقات اور اپنی ثقافتی میراث سے پیوستگی واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔

 

شیئر: