’روسی قیدیوں کے ہاتھوں جیل وارڈن قتل‘ 

پولیس کے مطابق روسی اور چیچن خواتین نے خاتون اہلکار کو قتل کیا، فوٹو: فلکر
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی ایک جیل میں تین غیر ملکی خواتین قیدیوں نے مل کر مبینہ طور پر جیل کی خاتون اہلکار کو قتل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق کراچی سے تقریبا 40 کلومیٹر دور لسبیلہ کے ساحلی علاقے گڈانی میں واقع سینٹرل جیل گڈانی میں یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔ 
جیل کے سپرنٹنڈنٹ شکیل بلوچ نے اردو نیوز کو بتایا کہ خاتون وارڈن زویا بنت یحییٰ جیل میں خواتین کے لیے قائم علیحدہ بیرک میں ڈیوٹی پر متعین تھیں۔وہ رات کو بیرک کے اندر قید خواتین قیدیوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھیں، اس دوران انہیں گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا۔
سپرنٹنڈنٹ کے مطابق جیل عملے کو واقعہ کا علم صبح ہوا جس کے بعد پولیس اور میجسٹریٹ کو بلایا گیا جنہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے۔
سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ بیرک کے اندر کل 11 خواتین قیدی موجود تھیں جن میں سے پانچ کا تعلق روس اور اس کی مسلم ریاست چیچنیا سے ہے۔

پولیس کو خاتون اہلکار کے قتل کا علم اگلی صبح ہوا، فوٹو: اے ایف پی

ان خواتین کو ایک 15 سالہ بچے کے ہمراہ گذشتہ برس اکتوبر میں کوئٹہ سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
 یہ خواتین کئی ماہ تک کوئٹہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں قید تھیں جہاں سے جون 2019 میں کراچی میں روسی قونصل خانے کے حکام کی رسائی آسان بنانے کے لیے ان روسی قیدیوں کو سینٹرل جیل گڈانی منتقل کیا گیا تھا۔ 
شکیل بلوچ نے بتایا کہ ان غیر ملکی خواتین قیدیوں کو سزائیں مکمل ہونے پر ملک بدر کرکے روسی حکام کے حوالے کرنے کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں۔
مقتولہ کی لاش رورل ہیلتھ سینٹر گڈانی منتقل کی گئی جہاں لواحقین نے واقعہ اور لاش کی حوالگی میں تاخیر پر احتجاج بھی کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔ 
24 سالہ زویا بنت یحییٰ عمرانی کا تعلق گڈانی ہی سے تھا اور2017 میں بطور لیڈی وارڈن تعینات ہوئی تھیں۔اہلخانہ کے مطابق زویا اپنے گھر کی واحد کفیل تھیں۔ ان کے والد فالج کے مریض ہیں اور دو چھوٹے بھائیوں سمیت پورے گھر کی کفالت زویا کر رہی تھیں۔ 

حکام غیر ملکی خواتین کو ملک بدر کرنے کی تیاریوں میں تھے، فوٹو: فلکر

جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ بیرک میں موجود دیگر خواتین قیدیوں نے یہ جرم ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
ان قیدیوں کے بطور گواہ بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں۔ عینی شاہد خواتین قیدیوں کا کہنا ہے کہ تین روسی خواتین نے زمین پر سوئی ہوئی خاتون وارڈن کو پہلے رسی سے باندھا اور اس کے بعد ان کے منہ میں کپڑا ٹھونسا تاکہ وہ چیخ نہ سکیں پھر انہوں نے ازار بند کے پھندے سے وارڈن کا گلہ دبایا۔
 گلہ دبانے کے بعد مقتولہ کے سر پر واش روم میں موجود سیمنٹ کے بلاک مار مار کر تشدد بھی کیا گیا۔ قتل کے بعد باقی خواتین قیدیوں کو چپ نہ رہنے کی صورت میں دھمکیاں دی گئیں۔ 
مذکورہ جیل اہلکار کے مطابق غیر ملکی خواتین جہادی سوچ رکھتی ہیں اور انہوں نے جیل عملے کے سامنے الجہاد الجہاد کے نعرے بھی لگائے ۔
لسبیلہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نوید عالم نے اردو نیوز کو بتایا کہ قتل کی وجوہات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔’غیر ملکی خواتین قیدیوں نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔ اس حوالے سے پولیس نے اپنی تفتیش شروع کر دی ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں