پاکستان میں 2025 میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں، ہلاکتوں میں 73 فیصد اضافہ
اتوار 28 دسمبر 2025 15:50
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین ہزار 387 رہی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں سنہ 2025 کے دوران شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں میں 73 فیصد اضافہ ہے ان میں شدت پسند، سکیورٹی فورسز اور شہری شامل ہیں۔
یہ بات پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پکس) کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین ہزار 387 رہی، جو سنہ 2024 میں 1950 تھی۔ ان میں 21 سو سے زائد شدت پسند، 664 سکیورٹی اہلکار، 580 شہری اور حکومت نواز امن کمیٹیوں کے 28 ارکان شامل ہیں۔ شدت پسندوں کی ہلاکتیں کل تعداد کا 62 فیصد ہیں، جو سنہ 2015 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
گذشتہ برس کے مقابلے میں شدت پسندوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 664 اہلکار جان سے گئے جو 2011 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ شہری ہلاکتیں بھی 24 فیصد بڑھ کر 580 ہو گئیں جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سنہ 2025 میں شدت پسند حملوں کی تعداد ایک ہزار 63 رہی، جو سنہ 2024 کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ خودکش حملوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ سنہ 2025 میں 26 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سنہ 2024 میں یہ تعداد 17 تھی۔ رپورٹ می ڈرونز کے استعمال کو بھی نوٹ کیا گیا اور 33 ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
مشتبہ شدت پسندوں کی گرفتاریوں میں 83 فیصد اضافہ ہوا، 2025 میں 497 افراد گرفتار کیے گئے، جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر تشدد خیبر پختونخوا کے پشتون اکثریتی اضلاع، سابقہ فاٹا اور بلوچستان میں مرکوز رہا۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے شدت پسند حملوں کا الزام افغانستان پر لگایا ہے، تاہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
