اس آپریشن میں آٹھ عسکریت پسندوں کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا جہاں دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ضلع کے پولیس سربراہ سعود خان نے بھاری نفری کے ہمراہ اس آپریشن میں حصہ لیا جن کو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مدد بھی حاصل تھی۔
پولیس ترجمان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’اس آپریشن کے دوران ضلع کوہاٹ اور ضلع کرک کے درمیان پھیلے پہاڑی علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کی متعدد پناہ گاہوں کو تباہ کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن اب بھی جاری ہے۔
ایک الگ واقعہ میں پاکستان کی فوج نے بلوچستان میں چار علیحدگی پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک بیان میں کہا کہ صوبہ بلوچستان کے ضلع قلات میں انٹلیجنس کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔
بیان کے مطابق ’سکیورٹی فورسز نے انڈیا کے سپانسرڈ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جس میں چار ہلاک ہو گئے۔‘
ضلع کرک اور ضلع کوہاٹ کے درمیان پہاڑی علاقوں میں آپریشن کیا گیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا۔ ’مارے جانے والے اس علاقے میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔‘
بیان کے مطابق ’علاقے میں موجود دیگر انڈین سپانسر دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔‘
پاکستان کے افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے افغانستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین انڈیا کے حامی شدت پسندوں کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے جو ٹی ٹی پی سمیت عسکریت پسند گروپوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔