الطاف حسین پر فرد جرم عائد

الطاف حسین پاکستان میں قتل اور دہشت گردی سمیت متعدد مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری ہیں۔ فوٹو: ایم کیو ایم
عدالت نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو یکم نومبر تک ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
ان کی ضمانت سے متعلق شرائط کے حوالے سے حتمی معلومات ابھی دستیاب نہیں اور الطاف حسین کے وکلاء عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامے کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس سے قبل برطانوی پولیس نے الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی تھی۔
واضح رہے کے دوران سماعت عدالت نے الطاف حسین کو سیاسی بیانات دینے سے باز رہنے کا کہا ہے تاہم ان کے وکلاء کی جانب سے اس پر اعتراض سامنے آیا تھا اور وہ اسے آزادی اظہار پر قدغن سے مشابہت دے رہے تھے جس کے بعد ججوں نے عدالتی کاروائی کچھ دیر کے لیئے روک کر مشورے کا وقت مانگا تھا۔
وقفے کے بعد عدالت نے الطاف حسین کی ضمانت کے احکامات صادر کیے۔
میٹرو پولیٹن پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر شائع بیان میں کہا تھا کہ ’ ایک چھیاسٹھ سالہ شخص پر 2016 میں کی گئی تقریر کے حوالے سے کیس میں دہشت گردی کی دفعات کے تخت فرد جرم عائد کی گئی ہیں۔‘
الطاف حسین پر برطانیہ میں پیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر کرنے کا مقدمہ چل رہا تھا اور اس حوالے سے وہ تین پیشیاں بھگت چکے ہیں۔ ضمانت ختم ہونے پر وہ جمعرات کو ساؤتھ وارک پولیس سٹیشن میں پیش ہوئے۔

الطاف حسین کو 11 جون کو 30 گھنٹے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی حراست میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

اس سے قبل 12 ستمبر کو الطاف حسین کو پانچ گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں موجود رہے تھے، بعد ازاں انہیں ضمانت میں توسیع کرکے جانے دیا گیا تھا۔
اس سے پہلے بھی الطاف حسین کو 11جون کواسکاٹ لینڈ یارڈ نے  30 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین کو گھر پر چھاپہ مار کر تحویل میں لیا تھا، انہیں 2016 میں نفرت انگیز تقاریر کے مقدمے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کیسز کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے برطانیہ کو تفصیلات فراہم کی تھیں۔
واضح رہے کہ الطاف حسین پاکستان میں قتل و غارت، دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب اور اشتہاری ہیں۔
2016 میں کی گئی تقریر میں الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی کوریج نہ کرنے پر پاکستانی میڈیا کو دھمکایا تھا اور پولیس نے ان پر پاکستان مخالف نعرے لگانے کا الزام لگایا تھا اور کراچی میں موجود ایم کیو ایم کے مرکز کو سیل کر دیا تھا۔
ایم کیو ایم کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں اور انہوں نے ایک نجی ٹی وی سٹیشن پر حملہ بھی کیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس کے بعد ایم کیو ایم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور ایک نئی سیاسی جماعت ایم کیو ایم پاکستان سامنے آئی تھی جس نے الطاف حسین کی تقریر کی مذمت کی تھی۔

شیئر: