بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے احتجاج میں شدت، شاہراہیں بند اور متعدد گرفتار
بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے احتجاج میں شدت، شاہراہیں بند اور متعدد گرفتار
پیر 12 جنوری 2026 17:01
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج تیز کر دیا ہے۔ قلم چھوڑ ہڑتال کے بعد مختلف اہم شاہراہیں بند کی گئیں جس سے صوبے کے کئی علاقوں میں آمد و رفت متاثر ہوئی۔
بلوچستان گرینڈ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا اور 20 جنوری کو کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا۔
پیر کو خضدار، لسبیلہ، قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد، نوشکی اور پنجگور میں کوئٹہ کو کراچی، تفتان، گوادر اور سندھ سے ملانے والی اہم شاہراہیں بند کی گئیں۔ اس دوران گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے مختلف مقامات پر متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔
بلوچستان کے درجنوں محکموں کے ملازمین گرینڈ الائنس بنا کر گزشتہ سات ماہ سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کے حصول کے لیے مشترکہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صوبے کے محکموں میں تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کے لیے کم تنخواہوں والے ملازمین کو 30فیصد الاؤنس دیا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین ہیں اور انہیں یہ الاؤنس دینے سے صوبے پر 16 سے 20 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ نے اردو نیوز کو بتایا کہ دیگر صوبوں اور وفاقی حکومت نے یہ الاؤنس دیا ہے لیکن بلوچستان حکومت اس پر آمادہ نہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کے دور میں یہ ملازمین کا بنیادی حق ہے اور حکومت کی اپنی کمیٹی بھی اس الاؤنس کے حق میں سفارشات دے چکی ہے مگر وزیراعلیٰ ان پر عمل نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر، وزیراعلیٰ، اسمبلی سیکریٹریٹ، سول سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ سمیت کئی محکموں کے ملازمین کو زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں جبکہ دیگر محکموں میں اسی درجے کے ملازمین کو کم تنخواہیں ملتی ہیں اس فرق کو ختم کرنے کے لیے ڈی آر اے الاؤنس ضروری ہے۔
عبدالقدوس کاکڑ نے الزام لگایا کہ حکومت نے وعدوں کے باوجود مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور مختلف شہروں میں رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک 50 سے زائد ملازمین گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ پندرہ پہلے ہی کوئٹہ جیل میں قید ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حکومت کو ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے۔ فوٹو: بلوچستان گرینڈ الائنس
انہوں نے بتایا کہ مختلف کالجوں کے 38 پروفیسرز کو بھی احتجاج میں شرکت پر معطل کیا گیا ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لازمی تعلیمی سروسز ایکٹ کی خلاف ورزی پر کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے گرینڈ الائنس کی تحریک شروع ہونے کے بعد تعلیمی اداروں میں احتجاج پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔
سرکاری ملازمین کی جانب سے احتجاج کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں دفاتر کی تین روزہ تالہ بندی کی گئی، دوسرے مرحلے میں شاہراہوں کی بندش جاری ہے جو 14 جنوری تک مختلف علاقوں میں ہوگی۔ 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن اور تمام سرکاری دفاتر بند کرنے جبکہ 20 جنوری کو کوئٹہ میں ریڈ زون کے قریب غیرمعینہ مدت کے لیے دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ملازمین کے رہنما عبدالقدوس کاکڑ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے کارروائی کی تو وہ تمام سرکاری دفاتر کو بند کر کے جیل بھرو تحریک شروع کریں گے۔
صوبے کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی ملازمین کے احتجاج کی حمایت کی ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے مطالبات کو تسلیم کریں۔
عبدالقدوس کاکڑ کا کہنا ہے کہ اس الاؤنس سے اگرچہ 17 ارب روپے تک کا بوجھ پڑے گا مگر ملازمین کی تنخواہوں میں یومیہ ڈیڑھ سو روپے سے بھی کم اور ماہانہ صرف چار سے ساڑھے چار ہزار روپے تک اضافہ ہوگا جو ان کے مطابق بڑا بوجھ نہیں بلکہ حق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت، وزرا اور اراکین اسمبلی کے شاہانہ اخراجات کم کرنے کے بجائے غریب ملازمین کو ان کا حق دینے سے انکار کر رہی ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کا کہنا ہے کہ حکومت کو ملازمین کی مشکلات کا احساس ہے اور انہیں مختلف سہولیات دی جا رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں ساڑھے تین لاکھ ملازمین کو ڈی آر اے الاؤنس دینے سے 20ارب روپے تک کے اضافی اخراجات آ سکتے ہیں اس لیے یہ فیصلہ جلدی میں نہیں لیا جا سکتا اور اس پر مشاورت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملازمین حکومت کے فیصلے تک کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں۔