Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایک ہی ہفتے میں درجن بھر اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس منسوخ کیوں ہوئے؟

بیورو نے شکایات پر ابتدائی چھان بین کے بعد متعلقہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے ایک ہی ہفتے کے دوران درجن بھر اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔ 
ان تمام پروموٹرز کے خلاف کارروائی مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں پر کی گئی جن میں امیدواروں سے غیرقانونی فیس وصول کرنا، غیرملکی آجر کمپنیوں کو جعلی دستاویزات فراہم کرنا، شوکاز نوٹس کے باوجود تسلی بخش جواب جمع نہ کرانا، لائسنس کی بروقت تجدید نہ کروانا اور طویل عرصے تک کسی بھی پاکستانی شہری کو بیرون ملک نہ بھجوانا شامل ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق ایک ہی ہفتے میں جن اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس منسوخ کیے گئے ان میں کلیار ایسوسی ایٹس، سیمیٹک انٹرنیشنل، احمد انٹرپرائزز، اکارڈ انٹرنیشنل، شفران اوورسیز ایمپلائمنٹ سینٹر، نیو ورژن اوورسیز ایمپلائمنٹ، فائنل کیریئر اوورسیز ایمپلائمنٹ، راناکو اور گلشن ریکروٹنگ ایجنسی شامل ہیں۔
یہ معاملہ ایک ایسے شکایت کنندہ کی شکایت سے شروع ہوا جس نے بیرون ملک روزگار کے خواب کی قیمت کے طور پر اضافی فیس تو ادا کی تھی لیکن اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر اس کے باوجود اسے بیرون ملک بھجوانے میں ناکام رہا تھا۔
پنجاب کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری محمد ثاقب نے بیرون ملک ملازمت کے لیے کلیار ایسوسی ایٹس سے رابطہ کیا تھا، اور اسے یقین دلایا گیا کہ چند ہفتوں میں خلیج میں ملازمت اس کا انتظار کر رہی ہے۔ کاغذات مکمل کروائے گئے، طبی معائنہ کروایا گیا۔ سرکاری طور پر مقررہ رقم سے کہیں زیادہ پیسے لیے گئے، پھر ہفتے مہینوں میں بدل گئے، فون بند ہونے لگے، دفتر کے چکر بڑھتے گئے اور آخرکار وہ شہری بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے دروازے پر پہنچا، جہاں اس نے تحریری شکایت درج کروائی۔ یہی شکایت بعد میں ایک پوری تفتیش کا نقطۂ آغاز بنی۔
جیسے ہی بیورو نے اس کیس پر کارروائی شروع کی ویسے ہی دیگر شکایات بھی سامنے آنے لگیں۔ مختلف شہروں سے امیدواروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز نے ان سے نہ صرف مقررہ حد سے زائد فیس وصول کی بلکہ بیرون ملک ملازمت کے نام پر بھاری رقوم لی جاتی رہیں جبکہ نہ ویزا ملا، نہ معاہدہ اور نہ ہی کوئی واضح جواب۔ 
بیورو نے ابتدائی چھان بین کے بعد متعلقہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وصول کی گئی رقوم، بیرون ملک آجر سے معاہدوں اور اپنی کارکردگی کا مکمل ریکارڈ پیش کریں مگر کئی کیسز میں یا تو جواب جمع ہی نہیں کروایا گیا یا پھر ایسی وضاحتیں دی گئیں جو شواہد کے سامنے ٹھہر نہ سکیں۔
تحقیقات آگے بڑھیں تو انکشاف ہوا کہ مسئلہ صرف امیدواروں سے زائد فیس وصولی تک محدود نہیں۔ بیورو کو بیرون ملک آجر کمپنیوں کی جانب سے بھی براہ راست شکایات موصول ہوئیں جن میں بتایا گیا کہ پاکستانی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز نے ان کے نام، لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویزات تیار کیں تاکہ پاکستان سے افرادی قوت بھجوانے کی اجازت حاصل کی جا سکے۔ 
ایسے ہی ایک کیس میں فائنل کیریئر اوورسیز ایمپلائمنٹ کے خلاف شکایت درج کروائی گئی جس میں غیرملکی کمپنی نے واضح کیا کہ ان کا اس پاکستانی ادارے سے کوئی مستند معاہدہ موجود نہیں۔ جب بیورو نے متعلقہ کمپنی سے اصل دستاویزات اور تصدیق طلب کی تو وہ کوئی قابلِ قبول ثبوت فراہم نہ کر سکی جس پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ ایک دانستہ اور منظم دھوکہ دہی ہے۔

کئی کیسز میں بیرون ملک روزگار کے لیے اضافی فیس تو ادا کی گئی لیکن اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر بیرون ملک بھجوانے میں ناکام رہا: فائل فوٹو اے ایف پی

دوسری جانب بعض کمپنیوں نے ملازمت کے خواہشمند افراد کی جعلی دستاویزات جمع کروائیں جن کے ذریعے ان کی اہلیت کا معیار بدلنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان کو زائد تنخواہ پر ملازمت دلوائی جا سکے۔ 
اسی دوران ایک اور تشویشناک حقیقت بھی سامنے آئی۔ بیورو کے ریکارڈ کے مطابق کئی اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسے تھے جو کاغذوں میں تو فعال دکھائی دیتے رہے مگر عملی طور پر پورے ایک سال میں ایک بھی پاکستانی شہری کو بیرون ملک ملازمت کے لیے نہ بھجوا سکے۔ اس کے باوجود یہ ادارے امیدواروں سے رابطے کرتے رہے اور مختلف بہانوں سے وقت گزارتے رہے۔
’سیمیٹک انٹرنیشنل، احمد انٹرپرائزز، اکارڈ انٹرنیشنل، راناکو اور گلشن ریکروٹنگ ایجنسی کے معاملات میں بیورو نے بارہا نوٹسز جاری کیے، سماعتیں کیں اور بہتری کا موقع دیا مگر جب یہ واضح ہو گیا کہ نہ تو کارکردگی میں کوئی بہتری آ رہی ہے اور نہ ہی قواعد و ضوابط کی پاسداری کی جا رہی ہے تو لائسنس منسوخی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔‘
بیورو حکام کے مطابق یہ اقدامات اس ادارے کے قانونی مینڈیٹ کے عین مطابق ہیں جس کے تحت اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی مسلسل نگرانی، شکایات کی جانچ پڑتال اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ 
حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمپنی کے خلاف کارروائی سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے، متعدد مواقع فراہم کیے گئے اور سماعتوں کے ذریعے صفائی کا حق دیا گیا مگر جہاں یہ ثابت ہو گیا کہ بدعنوانی یا نااہلی ایک وقتی غلطی نہیں بلکہ مستقل طرزِ عمل ہے وہاں لائسنس منسوخی ناگزیر ہو گئی۔

شیئر: