Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شدید سردی کا دعویٰ، کیا اسلام آباد اور لاہور میں برفباری ہو سکتی ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ایک غیر معمولی موسمی نظام کے داخل ہونے کے نتیجے میں پاکستان میں شدید اور ریکارڈ سردی متوقع ہے۔
ممکن ہے آپ کی نظر سے بھی ایسی پوسٹس گزری ہوں جن میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ آئندہ 8 سے 10 روز تک ملک میں غیر معمولی حد تک سرد موسم ریکارڈ کیا جائے گا۔
ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس موسمی نظام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں یخ بستہ ہوائیں چلیں گی، بارشیں ہوں گی اور برفباری بھی ہو سکتی ہے۔
یہاں تک کہ بعض پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ملک کے میدانی علاقوں اور بالخصوص لاہور میں بھی برفباری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
دیگر سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ سابق وزیر عمر سیف نے بھی سوشل میڈیا پر موسم کی اپڈیٹ سے متعلق ایک ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اگلے 8 سے 10 دن کے دوران شدید سرد موسم رہنے کا امکان ہے۔
تاہم اس موقع پر یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا واقعی رواں ہفتے یا آئندہ 8 سے 10 دن کے دوران پاکستان میں غیر معمولی سردی پڑنے والی ہے یا نہیں؟
ان تمام دعوؤں کے جواب میں پاکستان کے محکمۂ موسمیات نے کچھ دیر قبل ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور گمراہ کن موسمی پیشگوئیاں گردش کر رہی ہیں۔محکمۂ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر 16 سے 25 جنوری کے دوران شدید سردی کی پیشگوئیاں غیر مصدقہ ہیں۔
محکمۂ موسمیات کا مزید کہنا ہے کہ مذکورہ مدت کے دوران کسی غیر معمولی یا تاریخی شدت کی سردی کی کوئی لہر متوقع نہیں۔ موسمیاتی ماڈلز اور مشاہداتی اعداد و شمار کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق درجہ حرارت موسمِ سرما کے معمول کے مطابق رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان میں جنوری کا مہینہ سرد ترین مہینوں میں شمار ہوتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

محکمے کی جانب سے شہریوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ صرف محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ مستند موسمی پیشگوئیوں، انتباہات اور ایڈوائزریز پر ہی انحصار کریں۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے مزید وضاحت کے لیے محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر فورکاسٹنگ عرفان ورک سے بھی رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ پاکستان میں جنوری کا مہینہ سرد ترین مہینوں میں شمار ہوتا ہے اور اس دوران عموماً پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت منفی میں چلا جاتا ہے۔ رواں برس بھی موسم کی یہی صورتحال برقرار ہے۔
ان کے مطابق پہاڑی علاقوں میں اس وقت درجہ حرارت منفی میں ہے جبکہ میدانی علاقوں میں بھی درجہ حرارت کم ضرور ہے، تاہم کسی غیر معمولی سردی کی لہر کے آثار موجود نہیں۔
عرفان ورک کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت سکردو میں منفی 13 اور کوئٹہ میں منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنوری میں سردی کی شدت عام طور پر زیادہ ہوتی ہے۔

شہری برفباری دیکھنے کے لیے ملک کے بالائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

کیا لاہور اور اسلام آباد میں برفباری ہو سکتی ہے؟
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض دعوؤں میں لاہور میں برفباری کی بات کی جا رہی ہے حالانکہ لاہور میں آج تک کبھی برفباری نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سردی اس لیے زیادہ محسوس ہو رہی ہے کیونکہ دن کے وقت بھی درجہ حرارت کافی کم ہے۔ اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں پر برفباری کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسا کوئی موسمی سسٹم موجود نہیں جو برفباری کر سکے۔
اردو نیوز نے سابق ڈی جی انوائرنمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، ماحولیاتی ماہر اور پاکستان کے موسمی پیٹرن پر گہری نظر رکھنے والے آصف شجاع خان سے بھی گفتگو کی۔
انہوں نے بھی پاکستان میں غیر معمولی سردی سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنوری چونکہ سردی کا عروج ہوتا ہے، اس لیے اس دوران سردی کی شدت باقی مہینوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر اس قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
آصف شجاع کے مطابق رواں برس گزشتہ سال کے مقابلے میں غیر معمولی سردی نہیں دیکھی گئی کیونکہ دھوپ میں بیٹھنے پر درجہ حرارت کی شدت محسوس ہوتی ہے، جبکہ ماضی میں دھوپ میں بیٹھنے کے باوجود سردی زیادہ محسوس کی جاتی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی موسمی پیٹرنز، خصوصاً سمندری درجہ حرارت میں تبدیلیاں موسم پر اثر انداز ہوتی ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی پیشگوئی درست نہیں۔

شیئر: