نقل روکنے کے لیے سروں پر ڈبے پہنا دیے

وزیر تعلیم کے مطابق یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔ فوٹو: ٹویٹر
انڈیا کی ریاست کرناٹکا میں ایک عجیب و غریب واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک نجی کالج میں امتحان کے دوران انتظامیہ نے نقل کی روک تھام کے لیے طلبا کے سروں پر گتے کے ڈبے پہنا دیے۔
بنگلورو سے تقریباً 330 کلو میٹر دور حاویری نامی علاقے کے بھگت پِری یونیورسٹی کالج میں پیش آنے والے اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں اور لوگ انتظامیہ کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیپر دینے کے لیے کلاس روم میں موجود طلبا کے سروں پر گتے کے ڈبے پہنائے گئے ہیں۔ اس موقعے پر اساتذہ کو بھی کمرہ امتحان میں نگرانی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
انڈین ٹیلی ویژن این ڈی ٹی وی کے مطابق انتظامیہ نے یہ اقدام اس وقت اٹھایا جب طلبا کے مڈٹرم کے امتحانات شروع ہوئے۔

کالج انتظامیہ نے اپنے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ فوٹو: ٹویٹر

سوشل میڈیا صارفین کالج کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اُٹھا رہے کہ آیا اس اقدام سے واقعی نقل کو روکا جا سکتا ہے؟
اس حوالے سے میڈیا میں خبریں آنے کے بعد کرناٹکا کے وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’یہ سراسر ناقابل قبول ہے۔ کسی کو بھی طلبا کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنے کا حق نہیں۔ کالج انتظامیہ کے اس اقدام کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
وزیر تعلیم کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ طلبا کے لیے مضحکہ خیز اور تضحیک آمیز ہے۔ ہاں، امتحانات میں نقل ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کو حل کرنے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ جس نے بھی اس کی منظوری دی اس کی سرزنش کی جانی چاہیے۔‘

اس سے قبل بہار کے ایک کالج نے بھی ایسا ہی اقدام اٹھایا تھا۔ فوٹو: ٹویٹر

اس اقدام کا جواب پیش کرتے ہوئے کالج کے سربراہ ایم بی ستیش نے کہا ہے کہ بہار میں بھی نقل روکنے کے لیے ایک کالج سے طلبا کے سروں پر ڈبے پہنائے تھے تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس کے اقدام کی تعریف کی تھی۔
’ہم نے یہ طلبا کی بہتری کے لیے کیا۔ ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ طلبا کا دھیان بٹے۔ ڈبے اگلی طرف سے کھلے تھے۔ یہ ہمارا نیا تجربہ تھا جس کے بعد کچھ لوگوں کی طرف سے منفی اور کچھ سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔‘

انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام طلبا کی بہتری کے لیے اٹھایا گیا۔ فوٹو: ٹویٹر

خیال رہے کہ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی امتحانات کے دوران نقل کا چلن عام ہے اور اس حوالے سے سےگذشتہ برسوں کے دوران سینکڑوں افراد کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق نقل پر قابو پانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

شیئر: