’می ٹو‘ مہم سے کمپنی کو اربوں ڈالرز نقصان

 کینیتھ فشر امریکہ میں ایک مالی تجزیہ کار ہیں۔ فوٹو: روئٹرز
دنیا بھر میں جنسی ہراسگی کے خلاف چلنے والی ’می ٹو‘ مہم میں اب تک ہتک عزت کے کئی واقعات سامنے آئے لیکن کاروبار کو اربوں ڈالر کے نقصان کا کم سننے میں آیا۔
دنیا کے بڑے مالی اداروں کا گڑھ سمجھے جانے والے وال سٹریٹ کے ایک مشہور شخص کو صرف چند دنوں میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا جب انہوں نے ایک کانفرنس کے دوران عورتوں سے متعلق غیر مناسب بیان دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کین فشر انوسٹمنٹ کے مالک کینیتھ فشر نے ایک کانفرنس میں عورتوں سے متعلق نازیبا بیان دیا جس کے بعد سے وہ تنقید کی زد میں آئے اور ان کے گاہکوں میں سے کچھ نے ان سے کاروباری تعلقات  منقطع بھی کر لیے۔
 کینیتھ فشر امریکہ میں ایک مالی تجزیہ کار ہیں، جن کی فشر انوسٹمنٹ نام کی کمپنی کے ذمے بیشتر افراد اور کمپنیوں کے اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے سنبھالنے کی ذمہ داری ہے۔

کینیتھ فشر کی کمپنی کے کل نقصان کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں میڈیا کوریج کی اجازت نہیں تھی لیکن کانفرنس میں شریک ایک شخص کو کینیتھ فشر کی باتیں اتنی غیر مناسب معلوم ہوئیں کہ انہوں نے اس کا غصہ ٹوئٹر پر نکالنا بہتر سمجھا۔
کانفرنس میں شریک شخص ایلکس شلیکین کا کہنا تھا کہ کینیتھ فشر نے نہ صرف غیر مناسب طریقے سے جنسی اعضا کے بارے میں بات کی بلکہ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے گاہک اور بار میں موجود لڑکی کے بیچ موازنہ بھی کیا۔
ایلکس شلیکین کا کہنا تھا، ’فشر نے جو باتیں بولیں وہ کافی خوفناک تھیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس میں شریک عورتوں نے ان کو بعد میں بتایا کہ انہیں کینیتھ فشر کی باتوں سے تکلیف ہوئی۔
تاہم کینیتھ فشر نے بعد میں اے ایف پی سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے اپنے بیان پر معافی مانگی تاہم اس دوران بیشتر کمپنیوں نے ان کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کر دیے۔

ایک اور کمپنی کے صدر گریگوری ولوخین کے مطابق کینیتھ فشر نے جو کہا وہ مالی اداروں کی دنیا میں کوئی نئی بات نہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

امریکی شہر بوسٹن کے میئر مارٹی والش کا کہنا تھا، ’بوسٹن ایسی کسی کمپنی میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا جس ایسے افراد چلاتے ہوں جو عورتوں کو کاروبار کی شے سمجھتے ہوں۔‘
اے ایف پی کے مطابق کینیتھ فشر کی کمپنی کے کل نقصان کی لاگت بڑھ سکتی ہے کیونکہ اس واقعے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی اثاثے سنبھالنے والی کمپنی، فیڈیلیٹی انوسٹمنٹ، نے کہا ہے کہ وہ کینیتھ فشر کی کمپنی کے ساتھ تعلقات آگے لے جانے کے بارے میں سوچیں گے۔
تاہم ایک اور کمپنی کے صدر گریگوری ولوخین کے مطابق کینیتھ فشر نے جو کہا وہ مالی اداروں کی دنیا میں کوئی نئی بات نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب فرق بس اتنا ہے کہ لوگ ’می ٹو‘ مہم کی وجہ سے ڈرنے لگے ہیں۔

شیئر:

متعلقہ خبریں