کویت: اولاد والدین کی کفیل نہیں بن سکتی

آئندہ والدین اپنا اقامہ اپنی اولاد کے اقامے پر ٹرانسفر نہیں کرسکتے (فوٹو: الانباء)
کویتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں مقیم غیر ملکی اولاد اپنے والدین کی کفیل نہیں بن سکتی۔ ورک ایگریمنٹ یا اقامہ ختم ہونے پرغیر ملکی کو اپنے وطن واپس جانا پڑے گا۔
خیال رہے کہ کویت سمیت خلیجی ممالک میں غیر ملکی مختلف کمپنیوں کی کفالت میں ہوتے ہیں۔ جب ان کے بچے جوان ہوکر کسی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں تو والد کی کفالت سے کمپنی کی کفالت میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ جب والد کا کسی بھی وجہ ورک ایگریمنٹ ختم ہوجاتا ہے تو اقامہ رکھنے کے لئے قانونی طور پر اسے حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی کفالت میں آکر ملک میں قیام کرسکتا ہے۔ نئے فیصلے کے مطابق اب آئندہ غیر ملکی ایسا نہیں کرسکیں گے۔

مقامی اخبار القبس کے مطابق کویتی محکمہ اقامہ کو حکومت کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اب آئندہ سے والدین اپنا اقامہ اپنی اولاد کے اقامے پر ٹرانسفر نہیں کرسکتے۔


غیر ملکیوں کی تعداد کم کرنے اور آبادی کے تناسب میں توازن پیدا کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے (فوٹو: القبس)

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ شوہر کی کفالت پر اقامہ حاصل کرنے والی بیوی بھی اگر شوہر کا اقامہ ختم ہوجائے تو وہ اپنا اقامہ ٹرانسفر نہیں کرسکتی۔ اسی طرح بیوی کے اقامے پر رہنے والے شوہر پر پابندی ہے کہ جب تک اس کی بیوی کا اقامہ جاری ہے، اس وقت تک وہ بھی ملک میں قیام کرسکتا ہے مگر جیسے ہی بیوی کا اقامہ ختم ہوتا ہے تو وہ اپنا اقامہ ٹرانسفر کر کے ملک میں مزید قیام نہیں کرسکتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد وشمار سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں طویل عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد ایگریمنٹ ختم ہونے پر بہت سے غیر ملکی اپنے وطن واپس جانے کے بجائے اپنے بچوں کی کفالت میں آکر ملک میں مزید قیام کر لیتے ہیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ اقامہ و لیبر قوانین کی دفعہ 22 کے تحت ایسے غیر ملکی ’’عائل‘‘ سسٹم کے تحت آکر خاندان کے کسی فرد کی کفالت میں آجاتے ہیں ۔
حکومت نے مزید کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں غیر ملکیوں کی تعداد کم کرنے اور آبادی کے تناسب میں توازن پیدا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔

شیئر: