مریم نواز ہسپتال سے ڈسچارج، جیل منتقل

سروسز ہسپتال میں زیر علاج نواز شریف سے ملاقات کے بعد مریم نواز کی طبیعت خراب ہوگئی۔ فوٹو: اے ایف پی
سروسز ہسپتال لاہور میں زیرعلاج سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو جمعرات کی صبح ڈسچارج کر کے دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو رات گئے مریم نواز کو کوٹھ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال لایا گیا جہاں انہوں نے میاں نواز شریف کی خیریت دریافت کی۔ 
لاہور سے اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنواز کے مطابق نواز شریف سے ملاقات کے بعد مریم نواز کی طبیعت خراب ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں بھی سروسز ہسپتال میں داخل کیا گیا۔
مریم نواز کو سروسز ہسپتال کے وی وی آئی پی روم ٹو میں زیر علاج رکھا گیا تھا۔
یاد رہے کہ مریم نواز کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت محکمہ داخلہ پنجاب نے دی ہے اور اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بدھ کو محکمہ داخلہ پنجاب کو ایک درخواست دی گئی تھی۔

بدھ کو لاہور کی احتساب عدالت میں چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ان کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ سروسز ہسپتال میں زیر علاج نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
مریم نواز نے کہا تھا کہ ’عدالت ایک گھنٹے کی مہلت دے، میں ہسپتال میں نواز شریف سے ملنا چاہتی ہوں۔‘ تاہم احتساب عدالت کی ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

بدھ کی صبح احتساب عدالت نے مریم نواز کی نواز شریف سے ملنے کی درخواست مسترد کی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی

نواز شریف علاج سے مطمئن ہیں، یاسمین راشد
 بدھ کی رات کو  ہی مریم نواز کی آمد سے قبل پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے سروسز ہسپتال میں نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سروسز ہسپتال میں علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور انہیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف جس ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہیں کروا سکتے ہیں۔ ملاقات میں انہوں نے علاج کے لیے ببیرون ملک جانے کی بات نہیں کی ہے۔

 بدھ کی رات کو ڈاکٹر یاسمین راشد نے سروسز ہسپتال میں نواز شریف سے ملاقات کی۔ فوٹو: اے ایف پی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف جب ہسپتال آئے تھے تو اس وقت ان کے پلیٹلٹس کی تعداد 10 ہزار تھی لیکن جب ٹیسٹ ہوا تو ان کی تعداد دو ہزار رہ گئی تھی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ نواز شریف کے خون میں پلیٹلٹس کی تعداد میں کمی کی وجوہات ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں رپورٹس آنے کے بعد وجوہات سامنے آجائیں گی۔
پنجاب کی صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت کی جانب سے میاں نواز شریف کو علاج کے لیے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نےکہا ’میں نے خود ان سے پوچھا کہ آپ کو مزید کچھ چاہیے تو بتادیں؟ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ علاج سے مطمئن ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیکل بورڈ کی میٹنگ میں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی شریک تھے۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: