ماضی میں بھی کپتانوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا

شاہد آفریدی کے مطابق سرفراز کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ سرفراز کے خلاف کوئی سازش ہوئی ہے، ماضی میں بھی سب کپتانوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے، سرفراز کے لیے تینوں فارمیٹ کو ایک ساتھ لے کر چلنا مشکل بھی ہو رہا تھا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اظہر علی اس وقت بہترین چوائس ہیں۔ ’میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ تینوں فارمیٹ کا کپتان ایک ہی ہونا چاہیے لیکن اگر کوئی ایسا کپتان میسر نہ ہو تو پھر فیصلے تو کرنے پڑتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میرا کوئی فیورٹ سیاستدان نہیں ہے میں ہر اس سیاستدان یا پارٹی کے ساتھ ہوں جو ملک کے لیے کام کرے۔ میں صرف سندھ /کراچی کی بات نہیں کرتا پورے ملک کی بات کرتا ہوں کراچی کے مسائل پروفیشنل اور ٹیکنیکل لوگ ہی حل کر سکتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔‘
 شاہد خان آفریدی نے اردو نیوز کو بتایا  ’ویسے بھی جب آپ کپتان ہوتے ہیں تو آپ سے بہت ساری توقعات ہوتی ہیں، بطور کپتان سرفراز کے لیے انفرادی سطح پر پرفارم کرنے کے ساتھ تینوں فارمیٹ کو ساتھ لے کر چلنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے اس کو مشورہ بھی دیا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ سے الگ ہو کر ون ڈے پر توجہ دو۔ جب ٹیم ہار رہی ہو تو پاکستان میں کپتان کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ جہاں تک اظہرعلی کی بات ہے تو وہ ایک اچھا لیڈر بن سکتا ہے، لہذا وہ اس وقت بہترین چوائس ہے۔‘

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ اظہر علی اس وقت بہترین چوائس ہیں۔

شاہد آفریدی کے بقول انھوں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ تینوں فارمیٹ کا کپتان ایک ہی ہونا چاہیے اور جس کو بھی کپتان بنایا جائے اس کو وقت دیا جانا چاہیے، لیکن ہمارے پاس اس وقت کوئی ایسا کپتان نہیں ہے جو تینوں فارمیٹ کو ساتھ لے کر چل سکے تو ایسے میں جو بھی فیصلہ کیا گیا ہے اس کی قدر کی جانی چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک میرا کوئی پسندیدہ سیاستدان نہیں ہے میرا پسندیدہ سیاستدان وہ ہے جو اس ملک اور اس کی عوام کی بہتری کے لیے کام کرے چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ میرے حساب سے اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے پاکستان کے اس وقت بہت سارے مسائل ہیں اور یہ وقت ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلا جائے، یہ ملک کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں ہے ہم سب کا ہے لہذا ہم سب کو ساتھ مل کر چلنا ہے۔‘
’مجھ سے بہت سوال ہوتا ہے کہ میں سیاست میں کب آرہا ہوں میں بار بار جواب دیتا ہوں کہ میرا ابھی تک کوئی ارادہ نہیں ہے فی الحال میری توجہ شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن پر بہت زیادہ ہے، ہماری فاﺅنڈیشن بہت اچھے کام کر رہی ہے یہ ایک ایسی آرگنائزیشن ہے جس کا کسی دوسری آرگنائزیشن سے مقابلہ نہیں ہے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے اس کام کے لیے چنا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے میں ریموٹ ایریاز میں رہنے والوں کو جو بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں ان پر کام کر رہا ہوں۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور جس جس نے کرپشن کی ہے وہ چاہے میں ہی کیوں نہ ہوں احتساب ہونا چاہیے۔ میں کراچی رہتا ضرور ہوں لیکن میں کراچی یا سندھ کی بات نہیں کرتا سارے ملک کی بات کرتا ہوں، کراچی جس کو نام نہاد میٹرپولیٹن سٹی کہا جاتا ہے، یہاں کے مسائل بہت زیادہ ہیں ان مسائل کا حل پروفیشنل اور ٹیکنیکل لوگوں کے پاس ہی ہو سکتا ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ ہر اس سیاستدان یا پارٹی کے ساتھ ہیں جو ملک کے لئے کام کرے۔

سری لنکا کی ٹیم کا دورہ پاکستان کے بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے سوال پر شاہد آفریدی نے کہا کہ ’سری لنکا کی ٹیم کی صورت میں یا کسی بھی دوسری ٹیم کی آمد کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے دنیا کو جو پازیٹیو میسج جائے گا اس سے دنیا کی آنکھیں کھلیں گی کہ اگر فلاں ٹیم یا کھلاڑی پاکستان جا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔
شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم اور بے روزگاری اس ملک کے بہت اہم مسئلے ہیں ہم نے کرکٹرز کی تعداد بڑھا تو دی تھی لیکن کوالٹی نہیں آرہی تھی اب تعداد کم ہوئی ہے تو یقینا کوالٹی آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بے روزگاری ایک اہم ایشو ہے لیکن ایک سسٹم کو چلانے کے لیے کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس کو لوگ نہ صرف کھیلتے ہیں بلکہ دیکھتے بھی ہیں۔ جب سٹارز ہوں گے تو کرکٹ آگے جائے گی اور بے روزگاری کے مسائل بھی حل ہوں گے۔
ان مزید کہنا تھا کہ ’کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے مجھے اپنی فٹنس کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کہیں پر بھی ہوں چاہے فاﺅنڈیشن کے حوالے سے چیرٹی ڈنر پر ہی کیوں نہ ہوں اپنی فٹنس کاخیال رکھتا ہوں۔ جہاں تک فلمیں دیکھنے کا سوال ہے تو پہلے میں فلمیں بہت شوق سے دیکھا کرتا تھا اب اس کی جگہ کچھ سیریلز نے لے لی ہے جیسا کہ میں ترکش ڈرامے بہت شوق سے دیکھتا ہوں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں بچوں کی ٹیچر پیرنٹ میٹنگز میں سفر میں ہونے کی وجہ سے نہیں جا پاتا میری اہلیہ ہی جاتی ہیں، لیکن آخری دو بار میں میٹنگ میں گیا کیونکہ میری بیٹیوں اور ان کے اساتذہ کا بہت زیادہ اصرار تھا۔

شیئر: