دبئی ، جعلی برطانوی پاسپورٹ پر سفر کرنیوالا کیسے پکڑا گیا

جعلی پاسپورٹ پر آنے والا شخص ملایشیا سے دبئی آیا تھا.وٹو ۔ امارت ٹوڈے
اماراتی امیگریشن اہلکار کے تجربے نے کمپیوٹر کو بھی مات دے دی ۔ کمپیوٹرائز  اسکینر جس جعلی برطانوی پاسپور ٹ کی شناخت میں ناکام رہا اسے اہلکار کی انگلیوں نے شناخت کرلیا ۔
عربی ملک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی نے ایک لاکھ 11 ہزار یورو میں ا یجنٹ  کے ذریعے ہالینڈجانے کا معاملہ طے کیا تھا ۔ رقم ہالینڈ پہنچ کر ادا کی جانی تھی ۔

 دبئی ایئر پورٹکے ٹرانزٹ لائونچ میں ایجنٹ کا کارندے سے رابطہ کرنا تھا.وٹو ۔ امارت ٹوڈے

 دبئی میں امیگریشن اہلکار کی مہارت اور تجربہ کام آیا جس کی وجہ سے جعل سازی کا انکشاف ہوا ۔ امارات ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ملزم سے تحقیقات جاری ہیں ۔ 
تفصیلات کے مطابق عرب ملک سے تعلق رکھنے والے ایک غیر ملکی کو اس وقت دبئی ایئر پورٹ پر امیگریشن اہلکار نے گرفتار کیا جب وہ دبئی سے ہالینڈ جانے کے لیے امیگریشن کروا رہا تھا ۔
جعلی برطانوی پاسپورٹ پرسفر کرنے والے عرب ملک کے شہری نے جب دبئی ایئر پورٹ پر امیگریشن کے لیے پاسپورٹ کو اسکینر سے گزار تو   کلیئرنس مل گئی مگر اس وقت اسے مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑگیا جب امیگریشن اہلکار نے اپنے تجربے کی روشنی میں پاسپورٹ پر شک کیا۔ اہلکار نے اپنے شک کی تصدیق کے لیے جب پاسپورٹ کو چیک کرایا تو وہ جعلی نکلا جس پر غیر ملکی کو گرفتار کرکے اسے تحقیقاتی ادارے کے سپرد کر دیا گیا ۔

کمپیوٹر اسکینر نے جعلی پاسپورٹ   کو کلیئر کر دیا تھا.وٹو ۔ امارت ٹوڈے

دبئی ایئر پورٹ پر متعین امیگریشن اہلکار کا کہنا تھا " اگرچہ کمپیوٹر اسکینر نے مسافر کو کلیئر کر دیا تھا مگر پاسپورٹ پر مہر لگاتے ہوئے میرے لمس نے صفحات کو قبول نہیں کیا ، پاسپورٹ کے صفحات عام برطانوی پاسپورٹ کی بہ نسبت  قدرے کھردرے تھے،  خاص کر وہ صفحہ جہاں پاسپورٹ ہولڈر کے بارے میں معلومات درج ہوتی ہیں ـ"
امیگریشن اہلکار نے مزید بتایاکہ " پاسپورٹ کے دوسرے صفحے بھی غیر معمولی لگے اگر چہ انہیں اتنی مہارت سے بنایا گیا تھا کہ کمپیوٹر اسکینر بھی جعل سازی کو ریڈ نہ کرسکا " ۔
اخبار کا کہنا تھا کہ جعلی پاسپورٹ پر آنے والا شخص ملایشیا سے دبئی آیا تھا جہاں سے اسے ہالینڈ جانا تھا ۔ ملزم نے دبئی پہنچ کرخودکار طریقے سے ویزہ حاصل کا اور 2 دن دبئی میں قیام بھی کیا ۔
ابتدائی تحقیقات میں ملزم نے انکشاف کیا کہ " ایک ایجنٹ سے معاملہ طے کیا تھا جس کے مطابق اسے ملایشیا سے دبئی آنا تھا جہاں ٹرانزٹ لائونچ میں اسے ایجنٹ کا کارندے سے رابطہ کرنا تھا جو اسے دبئی کا ویزہ دلانے کے بعد اگلی منزل کی جانب روانہ کرنے کے ذمہ دار تھیـ"۔
ملزم کا کہنا تھا کہ وہ ہالینڈ میں پناہ لینا چاہتا تھا جس کے لیے اس نے ملایشیا میں ایک ایجنٹ کے ذریعے تمام کارروائی مکمل کی تھی ۔

شیئر: