دبئی :سعودی ٹیم مصنوعی ذہانت کے عالمی مقابلے میں شریک

کنگ فہد یونیورسٹی کے پروفیسر نے ٹیم کی قیادت کی۔فوٹو ایس پی اے
سعودی ٹیم نے دبئی میں روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی مقابلے (فرسٹ گلوبل) میں شرکت کی۔ اس کا اہتمام دبئی فاﺅنڈیشن فار دی فیوچر نے کیا تھا۔ اس میں 191ممالک سے 14تا 18برس کے 1500امیدواروں نے حصہ لیا۔
الاقتصادیہ کے مطابق کنگ فہد یونیورسٹی برائے پٹرولیم و معدنیات کے پروفیسر ڈاکٹر کمال شناوہ نے ٹیم کی قیادت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر کمال شناوہ کاکہنا تھا کہ مقابلے میں شریک نوجوانوں کے لیے تجربہ قابل فخر رہا۔ سعودی قیادت وژن 2030 کے اہداف پورے کرنے کے لیے نوجوانوں کی سرپرستی کررہی ہے۔

بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام دبئی فاﺅنڈیشن فار دی فیوچر نے کیا تھا۔ فوٹو الوطن

ٹیم لیڈر میسون حمیدان نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہمارے ساتھی روبوٹ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ یہ نوجوان مملکت اور پوری دنیا کے روشن مستقبل کے حوالے سے امید کی کرن ہیں۔
میسون حمیدان نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مقابلے میں شریک طلباءکے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی تھا کہ وہ کم عمری میں اتنے بڑے پروگرام میں شریک ہوئے۔
’ دوسرا چیلنج یہ تھا کہ اپنے پروجیکٹ مکمل کرنے کے لیے وقت بہت کم ملا۔ تیسرا بڑا چیلنج یہ تھا کہ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پروجیکٹ پر کام کرنا تھا۔ دونوں میں توازن اپنے آپ میں ایک چیلنج رہا‘۔

191 ممالک سے  1500امیدواروں نے حصہ لیا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نیو م سٹی میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹ کے بڑے پیمانے پر استعمال کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر طرح کی تیاریاں کررہا ہے۔ 
وزارت تعلیم اس سلسلے میں اپنا کردارادا کررہی ہے۔ سعودی عرب دو برس قبل نیوم سٹی کی روشن علامت کے طورپر ’صوفیا‘ نامی روبوٹ کو سعودی شہریت بھی دے چکا ہے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: