’میں بھی کسی کی بیٹی ہوں‘

سا حل  پہ  بھی  تو  اتنی   شگفتہ  روش   نہ  تھی۔ فائل فوٹو: پکسابے
ارم اداس بیٹھی ماضی کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف تھی لیکن ہزار کوشش کے باوجود بھی وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ پائی تھی۔ اس سے یا والدین سے کہاں بھول ہوئی جس نے اسے زندگی بھر کے لئے روگی بنا دیا۔ ابا کو بہت شوق تھا کہ ان کی اکلوتی بیٹی ڈاکٹر بنے۔ اسے وہ دن یاد ہے جب وہ انٹری ٹیسٹ دینے گئی تھی۔ ماما نے اس پر نہ جانے کیا کیا دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونکیں۔
بابا تو صبح مسجد سے ہی تب آئے جب مجھے گھر سے نکلنا تھا یعنی آٹھ بجے۔ ماما نے انہیں ناشتہ دینا چاہا تو بولے نہیں میری بیٹی کو دیر ہو جائے گی۔ اسی طرح مجھے ساتھ لے کر چل دیے۔ راستہ بھر ان کاشوق اور میرے لئے دعاؤں کا ورد مجھے آج بھی رلاتا ہے۔ ٹیسٹ ہوا، بابا باہر ہی بیٹھے رہے۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ ٹیسٹ بہت ا چھا ہوا  تو ان کی آ نکھوں میں فرطِ جذبات سے آنسو آ گئے۔

ہمارے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ تمہیں بہو بنا کر اس تک پہنچا جائے۔ فائل فوٹو

داخلہ بھی اپنی مر ضی کے  میڈیکل کالج یعنی کنگ ایڈورڈ میں ہو گیا۔ بابا سرکاری ملازمت میں اعلی عہدے پر تھے لیکن ایمانداری کی وجہ سے تنخواہ ہی گھر میں آ تی تھی۔ محکمہ صحت میں فا ر غ التحصیل ہونے والے ڈاکٹرو ں اور نر سوں کی تعینا تی کی ذمہ داری تھی۔ اپنی مر ضی کی جگہ لینے کے لیے انہیں خوش کرنے کے لیے بڑی سے بڑی پیشکش ہوتی تھی لیکن وہ اپنے ا صولوں کی وجہ سے قبول نہ کرتے انہوں نے مجھے اورعا مر بھائی کو نہایت ایمانداری سے تعلیم دلوائی۔ وہ سکالر شپ پر امریکہ چلا گیا اور میری آخری سال میں ہی بات طے ہو گئی۔
ڈاکٹر وجاہت مجھ سے دو سال سینیئر تھے۔ ان کی والدہ مجھ پر قربان ہوئے جاتی تھیں۔ ماما، بابا کو انہوں نے اس طرح شیشے میں اتارا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے حامی بھر لی۔ مجھے بھی را ضی کرنے میں کیا کیا نہ جتن کیے۔ کیونکہ میں نے ڈاکٹر وجاہت کو متکبر دیکھا، خوش پوش تھے لیکن خوش مزاج نہ تھے۔ کوئی بھی دوست نہ تھا۔ سنا یہی تھا کہ ہر کلاس میں دو، دو سال لگائے ہیں۔ پیسہ تھا اس لیے باپ نے ایک بڑا ہسپتال کھول دیا۔ مجھے نہایت چاہ سے بیاہ کر لے گئے۔ ماما، بابا بہت خوش تھے ان کی اکلوتی بیٹی اتنے بڑے گھر میں بیاہی گئی تھی۔ اب سوچتی ہوں زندہ رہنے کے لئے ”پون،پانی اور پیسہ ہی ضروری ہے بس‘‘۔

حالات و وا قعات کا یہ مدو جزر بھی ہماری اپنی ہی پیداوار ہے۔ فائل فوٹو: پکسابے

چھ ماہ تو شہزادیوں کی طر ح گزرے پھر اچانک ایک صبح و جا ہت کی امی میرے پاس آئیں اور بولیں کہ بیٹی ایک بات کرنے آئی ہوں اسے میرا فیصلہ سمجھو یا مشورہ۔ میں نے کہا آپ کہیں تو۔ میرے بس میں ہوا تو ضرورپورا ہو گا۔ بولیں کہ میری خواہش ہے کہ عامر کو اپنی فر زندی میں لے لوں۔ ہماری بھی ایک ہی بیٹی ہے، و جیہہ۔ اسے بھابی بنا لو۔ میں ہکا بکا ان کا منہ تکنے لگی۔ پھر کہا کہ آ نٹی یہ فیصلہ تو میرے ہاتھ میں نہیں۔عامر بھائی نے تو وہاں اپنی کو لیگ کو پسند کر رکھا ہے اور بابا نے انہیں اجازت بھی دے دی ہے۔ اس پر وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہو گئیں اور بو لیں، ہم نے تم سے بھی وجاہت کی شادی اسی لیے کی کہ ہمیں عا مر پسند تھا۔ وہ تمہیں اکثر کالج چھو ڑنے اور لینے آ تا تھا۔ وجیہہ نے اسے پسند کر لیا تھا اور پھر ہمارے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ تمہیں بہو بنا کر اس تک پہنچا جائے۔ کیا کریں بیٹی کی ضد کے ہا تھوں مجبور ہیں۔وہ یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئیں لیکن مجھے عجیب کش مکش میں چھوڑ گئیں۔ شام میں وجاہت آئے تو ان کا موڈ خراب تھا۔ ڈنر کے بعد بولے چلو تمہیں ماما سے ملا لاؤں۔ میں نے کہا ابھی پچھلے ہفتے تو گئے تھے۔ بولے کوئی بات نہیں ذرا ڈرائیو ہی ہو جائے گی۔

 

ماماکی طرف وہ خلافِ تو قع اچھے موڈ میں رہے۔ پھر ایک فون آ یا تو بولے کہ مجھے ایمرجنسی کال آ ئی ہے واپسی پر تمہیں لے لوں گا۔ میں نے ان کا بہت انتظار کیا، پھر بابا نے کہا سو جاؤ یہیں پر۔ ہو سکتا ہے کوئی سیریس کیس ہو۔ رات گئے میں ماما سے باتیں کرتی رہی پھر ان ہی کے کمرے میں رکھے صوفے پر سو رہی۔ صبح وجاہت کو فون ملایا تو پھر بند ملا۔ دوپہر میں آنٹی کا فون آیا تو بو لیں کہ بیٹی کیا تم نے اپنے والدین کو بتا یا کہ ہم کیا چا ہتے ہیں۔ میں بات کی تہہ تک پہنچ گئی۔ وجاہت کا مجھے یوں چھوڑ کر جانا، اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ میری آنکھوں سے آ نسو بہتے دیکھ کر ماما تڑپ گئیں۔ انہیں سب معلوم ہوا تو بہت پریشان ہوئیں۔ فیصلہ ان کے ہاتھ میں بھی نہ تھا کیونکہ عامر کو انہوں نے خود اجازت دی تھی اور لڑکی کی والدین سے بھی بات ہو گئی تھی۔ میں نے ایک عزم سے کہا کہ ماما میں بھائی کی زندگی خراب نہیں ہونے دوں گی۔ مجھے اپنی حیثیت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ ایک راستہ بنی، ان کی بیٹی کی خو شی کے لئے۔ میں کون ہوں؟ میں بھی کسی کی بیٹی ہوں۔ اس لیے بھول جائیں کہ ڈاکٹر وجا ہت سے میرا کوئی رشتہ تھا۔ بابا سے بھی میں نے التجا کی کہ وہ اب ان کی باتوں میں نہ آئیں۔ میں نے وجاہت کا ہسپتال چھوڑ دیا اور دوسرے کلینک میں کام کرنے لگی۔ حالات و وا قعات کا یہ مدو جزر بھی ہماری اپنی ہی پیداوار ہے۔ شاعر نے اسی لیے کہا ہے،
سا حل  پہ  بھی  تو  اتنی   شگفتہ  روش   نہ  تھی
طو فا ں  کے  بیچ  آ کے  بہت  خوش  ہے   زندگی
ویراں  دل  ہے  او ر   عدم   زندگی   کا    ر قص
جنگل  میں  گھر  بنا  کے  بہت  خوش  ہے  زندگی
کاش ہم اپنی اپنی خواہشات کو ہی مقدم نہ رکھیں۔ منفی سوچیں گھروں کو برباد کر رہی ہیں۔ انسانیت کیا ہے، اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ شعوری اور غیر شعوری طور پر ہم غیر اسلامی مزاجوں کو اپناتے چلے جا رہے ہیں۔ ساکھ، ناک اور معیار کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ دکھاوے کی خاطر کیا سے کیا نہیں کر گزرتے۔ اپنے اپنے راستے پر اپنی خوا ہشات کا بو جھ کندھوں پر اٹھائے خود کو گھسیٹ رہے ہیں خود ہی اپنے زندہ رہنے کا جواز گھڑ کر خوش ہیں۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: