’بیٹی تو لڑکی ہے بھائی کا مقابلہ نہ کیا کر‘

رات بھر کا شکن زدہ لباس اس کے نسوانی جسم پر جچ رہا تھا۔ فائل فوٹو: ان سپلیش
ٹوں ٹوں ٹوں ۔۔ موبائل الارم کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کسمسایا اور کروٹ بدل کر تکیے سے لپٹ گیا۔ شازیہ۔۔۔ او شازیہ ۔۔ جلدی اٹھ۔۔ امی بہن کو آوازیں دے رہی تھیں۔ وہ لیٹا رہا ۔۔ او شازیہ اٹھ ۔۔ اٹھ بھی ۔۔ امی نے زور سے اس کے کندھے کو جھنجھوڑا تو وہ چونک گیا۔
جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو امی اسے گھور رہی تھیں۔ اٹھ جلدی، کیا بٹر بٹر دیکھ رہی ہے؟ بھائی نے جوگنگ پر جانا ہے، اسے ملک شیک کا گلا س بنا کر دے، میں آٹا گوندھ لوں۔ اس نے حیرت سے پہلے امی کو پھر ادھر ادھر دیکھا۔ خود پر سے چادر اٹھائی تو دھک سے رہ گیا۔
پیلے رنگ کے پھولوں والا رات بھر کا شکن زدہ لباس اس کے نسوانی جسم پر جچ رہا تھا۔ وہ باتھ روم کی جانب بھاگا اور کنڈی لگا کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگا۔ خوابیدہ آنکھیں، کندھوں تک جھولتے ہو ئے بال، گلابی ہونٹ۔ اللہ ۔۔ میں شازیہ ہوں۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔

ابا کو میں منا لوں گا بس آپ نے کچھ نہیں بولنا۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

بٹن دباتے ہی گھوں گھوں کی تیز آواز گونجی اور بلینڈر کا بلیڈ دودھ میں ڈوبے ہوئے کیلوں کو یوں کاٹنے لگا جیسے غریبی تعلقات کو کاٹتی ہے۔ کچن میں ساتھ کھڑی امی سٹیل کی پرات میں ادھ گوندھے آٹے کو زور زور سے مکیاں لگا رہی تھیں جیسے خاندان بھر کا غصہ اتار رہی ہوں۔
اگر رات کو آٹا گوندھ دیتی تو اب نہ گوندھنا پڑتا لیکن تجھے تو ڈرامے سے فرصت نہیں تھی۔ اور پھر سونے کی بھی جلدی۔۔ امی بول رہی تھیں۔۔ اتنے میں بھائی احسن شارٹ اور ٹی شرٹ میں ملبوس نئے جاگر پہنے آ دھمکا۔ چل بھائی کو ملک شیک دے۔ اس نے ملک شیک کا گلاس بھر کر بھائی کو تھما دیا جو وہ غٹا غٹ پی کر نکل گیا۔۔ زرا سا بھی نہیں بچایا کہ میں بھی دو گھونٹ بھر لیتی۔
بھائی کا خالی کیا ہوا گلاس دھوتے وقت اس نے غصے سے زیرلب گالی دیتے ہوئے سوچا۔ مردوں کی صحت کا خیال رکھنا گھر کی عورتوں کا ہی فرض ہوتا ہے۔ سارا دن بے چارے ہمارے لیے ہی تو کماتے ہیں۔ کھائے پیے گا تو ہی کل کو باپ کا بازو بنے گا، امی بول رہی تھیں اور وہ منہ بنا کر ابا اور بھائی کا ناشتہ بنانے میں مشغول ہو گئی تھی۔

یہی ہمارا نصیب ہے اور ہمیں اسی میں خوش رہنا ہے۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

ابا دفتر اور بھائی کالج چلے گئے تو وہ بھی ماں کے ساتھ ناشتہ کرنے بیٹھ گئی۔ رات کا بچا ہوا سالن اور ابا بھائی کا ادھ کھایا ہوا آملیٹ اور پراٹھے۔ اسے میٹرک کرتے ہی پڑھائی چھڑوا دی گئی۔ وہ بہت سٹپٹائی تھی۔ ابا گھر میں کم بولتے تھے، امی جو موجود تھیں ان کی زبان بولنے والی۔۔ ہم نے کب تجھ سے نوکری کروانی ہے۔ بس بہت پڑھ لیا ۔ اب گھر گھر ہستی سیکھ۔ دوسرے گھر جائے گی تو یہی کام آئے گا۔
امی نے اس کا ماتھا چوم کر کہا تھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ روئی وہ پہلے بھی بہت مرتبہ تھی لیکن اس وقت اسے آنکھیں انگارے اور ان سے نکلتے آنسو اتنے گرم لگے تھے کہ جیسے گالوں کے ساتھ روح بھی جھلسا گئے ہوں۔ بس اس کے بعد اس نے چپ سادھ لی تھی۔ شاید ان جیسے گھرانوں کی لڑکیوں کا یہی نصیب ہوتا ہے۔
نیچے دیکھ کر چلا کر، امی نے دانت پیستے ہوئے اسے ڈانٹا۔ اور وہ گھبرا کر نیچے دیکھنے لگی۔ دونوں بازار جا رہے تھے امی نے کچھ سامان خریدنا تھا۔ اگر عورت نے صرف نیچے ہی دیکھنا ہے تو اللہ نے اس کی ایسی آنکھیں بنائی ہی کیوں جو تمام اطراف دیکھ سکتی ہیں؟
وہ چلتے چلتے سوچ رہی تھی۔ اس پر عائد ہر پابندی سے بھائی آزاد تھا۔ بچپن میں وہ جب امی ابا کے ساتھ پارک جایا کرتی تھی تو دوڑ لگایا کرتی۔ جھولے پر خوب اونچی اڑان بھرتی۔ ہواؤں کو چیر کر بلندی پر جانا اسے بہت پسند تھا۔ وہ اڑنا چاہتی تھی۔ پائلٹ بننا اس کا خواب تھا۔
مگر جوان ہوتے ہی اس کے سارے خواب بکھر گئے۔ وہ ایک ایسا پرندہ بن گئی تھی جسے اچانک کھلی فضاوں سے پکڑ کر پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو۔ اگرچہ جوانی زندگی کا بہترین دور ہوتا ہے لیکن اسے یہ جوانی زہر لگنے لگی تھی جس نے اس کی ساری خوشیاں اور آزادی چھین لی۔

شاید ان جیسے گھرانوں کی لڑکیوں کا یہی نصیب ہوتا ہے۔ فائل فوٹو: پکسابے

کبھی کبھی گھر کی چار دیواری اسے آسیب زدہ لگتی۔ اس نے کن اکھیوں سے ارد گرد دیکھا۔ سڑک پر موجود بہت سے مردوں کی نگاہیں اس کے جسم کا طواف کر رہی تھیں۔ ان کی بھوکی نظریں اس کے بدن کو چیر رہی تھیں۔ چادر میں ملبوس ہونے کے باوجود وہ خود کو برہنہ تصور کرنے لگی۔ اسے خود کے لڑکی پیدا ہونے سے زیادہ ان کے مرد پیدا ہونے پر غصہ آ رہا تھا۔
ان جیسے مردوں کی ذہنی غلاظت کا خمیازہ عورت ذات بھگت رہی ہے۔ شاید ایسے ہی مردوں کی وجہ سے اس کی آزادی چھن گئی تھی۔ کس قدر بے غیرت تھے یہ خود کو غیرت مند کہلوانے والے۔۔ کیا میرے بھائی اور ابا بھی ایسے ہی ہیں؟ یہ سوچتے ہی اسے جھرجھری سی آگئی۔
امی نے اس کے ہاتھ سے ریموٹ چھین کر ٹی وی بند کر دیا۔ تجھے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ ایسے الٹے سیدھے ڈرامے نہ دیکھا کر۔ توبہ ہے کیا زمانہ آ گیا۔ ہمارے زمانے میں ڈرامے با مقصد اور سبق آموز ہوا کرتے تھے اور اب دیکھو تو۔ طلاق اورخود کشی کے علاوہ اور کوئی موضوع ہی نہیں۔ وہ روہانسی ہو گئی۔
دن بھر گھر کے کام کے بعد وہ اب پسند کا ڈرامہ بھی نہیں دیکھ سکتی؟ اور بھائی جو چاہے دیکھتا ہے۔ وہ جھنجھلا کر بول اٹھی۔ باتیں نہ کر زیادہ، چل میں تیرے سر پر تیل لگا دوں دیکھ تو کیسے خشک ہو رہے ہیں بال۔ امی پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگیں۔

کبھی کبھی گھر کی چار دیواری اسے آسیب زدہ لگتی۔ فائل فوٹو: ان سپلیش

رات کے شاید دس بجنے کو تھے اور امی اسے آغوش میں لیے سمجھا رہی تھیں۔ بیٹی تو لڑکی ہے بھائی کا مقابلہ نہ کیا کر۔ وہ مرد ذات ہے۔ عورت مرد کی غیرت اور شرم ہوتی ہے۔ عورت کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوتا ہے۔
ایک غلط قدم اٹھایا نہیں کہ عبرت کا نشان بنا دی جاتی ہے۔ عورت کی خطا سات نسلوں تک پیچھا کرتی ہے۔ مرد کا کیا ہے نہایا دھویا اور پاک ہو گیا۔ اللہ بخشے میرے ابا کو بہت ہی غیرت شرم والے اور سخت مزاج تھے، ذرا ہانڈی میں نمک تیز ہوا نہیں کہ ہانڈی صحن میں دھماکے سے پھوٹتی۔ مجال ہے کہ امی کبھی ان کے سامنے چوں بھی کر سکی ہوں۔
کیا رعب تھا ابا کا۔ مرد کی ذات سخت ہوتی ہے اللہ نے اسے ایسا ہی بنایا ہے۔ سخت طبیعت کا ہی اچھا لگتا ہے۔ ورنہ گھرکا نظام کیسے چلے گا؟ اور عورت تو پیدا ہی مرد کی اطاعت اور خدمت کے لیے ہوئی ہے۔ تو اپنی جان ہلکی نہ کیا کر بیٹی یہی ہمارا نصیب ہے اور ہمیں اسی میں خوش رہنا ہے۔ امی کی باتیں سنتے سنتے جانے کب وہ ماں کی آغوش سے نیند کی آغوش میں چلی گئی۔

 

ٹوں ٹوں ٹوں۔۔ الارم کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کسمسائی اور کروٹ بدل کر تکیے سے لپٹ گئی۔ وہ چند لمحے اسی کیفیت میں رہی۔ شازیہ اور شازیہ اٹھ جلدی بھائی نے جوگنگ پر جانا ہے اسے ملک شیک بنا دے۔۔ امی کی آواز دور سے آ رہی تھی اس نے آنکھیں کھولیں اور اوڑھی ہوئی چادر اتار دی۔ اوہ، اسے جیسے کرنٹ لگا۔
جلدی سے دوبارہ چادر اوڑھ لی۔ اس نے نیکر پہن رکھی تھی۔۔ چند لمحوں بعد پھر چادر دھیرے دھیرے سے اتاری۔ جسم پر صرف نیکر اور بنیان ہی تھی۔ اٹھ کر باتھ روم کی جانب بھاگی۔ کنڈی لگا کر آئینے میں خود کو دیکھا۔ چمکدار آنکھیں، ناک کے نیچے ہلکی مونچھیں اور شیو بڑھی ہوئی تھی۔ اسے جیسے سکتہ ہو گیا۔ اللہ۔۔ میں تو احسن ہوں؟ ۔۔ اف، کتنا بھیانک خواب تھا۔۔
بلینڈر کی گھوں گھوں گھوں کی تیز آواز آ رہی تھی۔ شازیہ نے ملک شیک گلاس میں انڈیل کر بھائی کی جانب بڑھایا۔۔ احسن نے آدھا پی کر واپس بہن کو دے دیا یہ لے آدھا تو پی لے۔ شازیہ حیرت سے چند لمحے دیکھتی رہی پھر ملک شیک کے گھونٹ بھرنے لگی۔
احسن مڑا اور چند منٹ بعد لوٹا اور اپنے پرانے جاگر اس کے سامنے پھینکے۔ چل جلدی سے یہ پہن لے تو نے میرے ساتھ جوگنگ کے لیے جانا ہے۔ ماں چولہا جلاتے جلاتے ماچس کی تیلی بجھا کر تیزی سے واپس مڑی۔۔ کہاں جانا ہے؟ پاگل ہو گیا ہے کیا۔۔ نہیں امی میں اب ٹھیک ہوں۔ یہ میرے ساتھ جوگنگ پر جائے گی۔ اسے بھی صحت مند زندگی گزارنی ہے اور کچھ بن کر دکھانا ہے۔ ماں ہونق بنی اپنے ہی پیٹ سے جنے بیٹے کا نیا روپ دیکھ رہی تھی۔
اور ہاں امی اگلے مہینے داخلے کھلیں گے تو اسے کالج میں داخلہ لینا ہے۔ بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد ہی یہ ایئر فورس میں اپلائی کر سکتی ہے۔ امی یہ بھی میری طرح ہی ہے۔ آپ اور ابا کا بازو بنے گی۔ ابا کو میں منا لوں گا بس آپ نے کچھ نہیں بولنا۔ ماں پہلے ہی سکتے میں تھی، چپ چاپ کھڑی کی کھڑی رہ گئی اور شازیہ خوشی خوشی پرانے جاگر پہن کر جذبات سے کپکپاتے ہاتھوں سے ان کے تسمے کسنے لگی۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: