’حکومت دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات پر رضامند‘

مولانا فضل الرحمان سے چوہدری برادران نے بھی ملاقات کی ہے۔ فوٹو: ریڈیو پاکستان
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دو دور مکمل ہو چکے ہیں۔ جس میں حزب اختلاف کی جانب سے اپنے مطالبات پیش کیے گئے اور حکومت نے حزب اختلاف کے سامنے اپنی تجاویز رکھیں ہیں تاہم ڈیڈلاک تاحال برقرار ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت واضح کر چکی ہے کہ وزیراعظم کے استعفے پر بات نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں حکومت کے پاس اپوزیشن کو دینے کے لیے کیا ہو سکتا ہے اس حوالے سے اردو نیوز نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کی ہے۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مطابق مذاکرات میں تاحال کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی تاہم ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’حکومت نے اپوزیشن کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات کے لیے رضا مندی ظاہر کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن اگر چاہے تو انتخابی دھاندلی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھی بھجوایا جاسکتا ہے جو کہ ایک مقررہ وقت میں انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرے۔
منگل کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ ’انتخابی اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم نے بھی آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اگر اس حوالے سے اپوزیشن اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا چاہتی ہے تو حکومت تعاون کرے گی۔

اسد عمر کہتے ہیں کہ امید ہے جلد اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور ہوگا۔ فوٹو: اے ایف پی

کمیٹی کے رکن نے مزید بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی اور اصلاحات کے مطالبات تسلیم کرنے کو تیار ہیں لیکن وزیراعظم کے استعفے اور فوری انتخابات کا مطالبہ غیر سنجیدہ ہے۔
منگل کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور اکرم درانی کی رہائش گاہ پر ہوا جہاں حکومت نے حزب اختلاف کے سامنے اپنی تجاویز پیش کیں۔
حزب اختلاف کے موقف کے حوالے سے جب اکرم درانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنے مطالبات پر ڈٹی ہوئی ہے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان کو اپنی قیادت سے آگاہ کریں گے تاہم انہوں نے حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز بتانے سے گریز کیا ہے۔
اس حوالے سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے  رکن چوہدری پرویز الہٰی جلد معاملات حل ہونے کے لیے پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
اس حوالے سے جب اسد عمر سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا ’حکومت نے اپنی تجاویز دی ہیں، امید ہے جلد اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور ہوگا۔
منگل کو حکومت اور حزب اختلاف کی جانب سے مذاکرات کے بعد حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میں حکومتی تجاویز پر مشاورت کی گئی۔
اس سے قبل چوہدری پرویز الہیٰ اور چوہدری شجاعت حسین نے پیر کی شب کو مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ڈیڈلاک کو دور کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ فوٹو: ٹویٹر

جمیعت علمائے اسلام (ف) نے 27  اکتوبر کو کراچی سے  وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جس میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی حمایت بھی شامل تھی، تاہم اب یہ مارچ دھرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور ان کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے اور فوج کی نگرانی کے بغیر فوری انتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ آئین میں شامل اسلامی دفعات کا تحفظ بھی مولانا کے مطالبات میں شامل ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: