حکومت سندھ نے ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے اور ٹریفک خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کے تحت صوبے میں ٹریفک عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ایسے کیسز کو تیزی سے نمٹایا جا سکے اور شہریوں کو فوری قانونی سہولت میسر آ سکے۔
حکومت سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور ای چالان سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی ٹریفک عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری سندھ محمد اقبال میمن کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کراچی ڈویژن سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں قائم کنزیومر کورٹس کو ٹریفک عدالتوں کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ فیصلہ صوبائی موٹر وہیکل (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی دفعہ 121 اے کے تحت کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ سے بھی مشاورت کی گئی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کی فوری سماعت اور فیصلوں کو یقینی بنانا ہے تاکہ عام عدالتوں پر بوجھ کم ہو سکے۔
ای چالان سسٹم اور بڑھتے ہوئے تنازعات
گزشتہ چند ماہ میں کراچی میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ای چالان سسٹم متعارف کرایا گیا۔ شہر کے مختلف اہم مقامات پر کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی تصاویر لے کر خودکار طریقے سے جرمانے جاری کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس نظام کے ذریعے ہزاروں گاڑیوں کے خلاف جرمانے جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے ساتھ شہریوں کی جانب سے شکایات بھی سامنے رہی ہیں۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے جرمانوں کے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن کے بارے میں انہیں یقین ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی۔ اس صورتحال میں شہریوں کو جرمانوں کے خلاف اپیل کے لیے واضح قانونی فورم کی ضرورت محسوس ہوتی تھی۔
اسی پس منظر میں حکومت نے ٹریفک عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ای چالان یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق کسی بھی تنازعے کو جلد حل کیا جا سکے۔
کراچی میں ٹریفک کا بڑھتا ہوا مسئلہ
ماہرین کے مطابق کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ صرف قوانین کی خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی دیگر مسائل بھی موجود ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ نئی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی رفتار اس کے مقابلے میں کم ہے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق کراچی میں رجسٹرڈ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ہر سال اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موٹر سائیکلوں کی بڑی تعداد بھی ٹریفک کے نظم و ضبط کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے کیونکہ اکثر افراد ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی نہیں کرتے۔

شہر کی کئی بڑی شاہراہوں جیسے ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ فیصل اور یونیورسٹی روڈ پر روزانہ شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آتا ہے، خصوصاً دفتری اوقات میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
شہریوں کی شکایات
کراچی کے شہری طویل عرصے سے ٹریفک مسائل کے حوالے سے مختلف شکایات کرتے آئے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے انتظامات ناکافی ہیں اور قوانین پر یکساں عملدرآمد نہیں ہوتا۔
بعض شہریوں کے مطابق ٹریفک پولیس کی نفری محدود ہے اور مصروف چوراہوں پر اکثر ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے اہلکار موجود نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی پارکنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سڑکیں مزید تنگ ہو جاتی ہیں اور ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
کراچی صدر ٹاون کے رہائشی محمد شاکر کا کہنا ہے کہ شہر میں بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ موٹر سائیکل یا نجی گاڑی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے سڑکوں پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
کچھ افراد ای چالان سسٹم سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ کلفٹن کے رہائشی سعد لیاقت کا کہنا ہے کہ بعض اوقات گاڑی کی نمبر پلیٹ غلط پڑھنے یا تکنیکی خرابی کے باعث غلط جرمانے جاری ہو جاتے ہیں جنہیں ختم کروانے کے لیے شہریوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے کوئی موثر نظام ہونا چایئے۔
ٹریفک پولیس کا مؤقف
ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ای چالان سسٹم کا مقصد انسانی مداخلت کو کم کرنا اور قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
حکام کے مطابق کیمروں کے ذریعے نگرانی سے نہ صرف خلاف ورزیوں کی نشاندہی آسان ہوتی ہے بلکہ شفافیت بھی برقرار رہتی ہے۔ تاہم اگر کسی شہری کو جرمانے پر اعتراض ہو تو وہ قانونی طریقہ کار کے تحت اس کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔













