Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غصہ آنے کے اتنے بہانے کیوں ہوتے ہیں؟

کوئی نہیں جیتتا۔ آپس کا تعلق ہار جاتا ہے۔ فائل فوٹو: آشا فاؤنڈیشن
جب کوئی بات ایک بار سے زیادہ مرتبہ کہنی پڑے، جسے کہی جا رہی ہو وہ پھر بھی نہ سمجھے۔ الٹا بحث پر اتر آئے۔ چلو بحث نہ کرے، سوال کرنا شروع کر دے۔ اف یار! دل کرتا ہے نا کہ اس کا سر پکڑ کر دو تین دفعہ دیوار سے ماریں۔ ارے، اتنا تشدد کرنے کا دل نہیں کرتا؟ مکہ مارنے کا تو کرتا ہی ہوگا (چاہے میز پر ہی سہی) اور آپ مار بھی دیتے ہوں گے۔
یا پھر اگلا بولے جا رہا ہو، بولے جا رہا ہو، سنتے سنتے کان پک جائیں لیکن وہ خاموش ہی نہ ہو۔ بھائی صاحب کو احساس ہی نہ ہو کہ آپ اس کی گفتگو سننے میں ذرا دلچسپی نہیں رکھتے۔ جمائیاں روک روک کر طبیعت بھاری ہو جائے۔
کوئی توقع پر پورا نہ اترے۔ کسی سے امید باندھ لی ہو اور حقیقت برعکس نکلے۔ کوئی آپ کی سب سے پسندیدہ کتاب مانگ کر لے جائے اور پڑھنے کے بعد واپس نہ کر رہا ہو۔ آپ کی پسند کا سالن نہ پکا ہو۔ یا سالن پسند کا پکا ہو لیکن نمک کم ڈل گیا ہو۔
جب آپ محنت سے کوئی پراجیکٹ تیار کریں اور آگے سے کہا جائے، ایک ہفتے میں تم نے ’یہ‘ کام کیا ہے؟
غصہ آنے کے کتنے ہی بہانے ہوتے ہیں نا!

کچھ دن بعد آپ وہ بات یاد کریں گے تو اتنی بری نہیں لگے گی۔ فائل فوٹو: پکسابے

اوپر ذکر کیے گئے مواقع پر کیا سامنے والے کا سر پھاڑنے کا دل نہیں کرتا؟ چلیں یار، گوڈا مار کے دانت توڑنے کا دل تو کرتا ہی ہے۔
اب ظاہر ہے، یہ تشدد ہم کر نہیں سکتے۔ تو کیا کرتے ہیں؟ نشتر چبھوتے ہیں۔ زبان سے زخمی کرتے ہیں۔ اپنا کتھارسس ہو جاتا ہے۔ اگلا بھی سبق سیکھتا ہے کہ نہ بھئی، اب نہیں چھیڑنا۔ بندہ غصے میں ہے۔ لیکن سخت بول لینے کے بعد، اگلے پر طنز بھرے جملے پھینکنے کے بعد، تضحیک کے بعد۔۔۔ یہ سوچ آتی ہے نا، کہ یار کچھ زیادہ بول گیا؟
اپنے ساتھ تو اکثر ہوتا ہے۔ بولنے لگوں تو زبان پر قابو نہیں رہتا۔ حال کی بات کہتے کہتے ماضی بھی کرید دیتا ہوں۔ اگلے کی کوئی بات پکڑ کر اسے ایسا دھوبی پٹکا دیتا ہوں کہ اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے۔ اس وقت اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر دل مطمئن سا ہوجاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی، اور شرمندگی دیکھتا ہوں تو سرور آ جاتا ہے۔ خود کو شاباش بھی دیتا ہوں، کہ دیکھا! کیسا چپ کرایا۔

ایسی کی تیسی کر دینے کی سرشاری کو شرمساری میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ فائل فوٹو: پکسابے

لیکن پھر یہ فتح مندی، یہ سرشاری زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی۔ جذبات ٹھنڈے پڑتے ہیں تو محسوس ہونے لگتا ہے کہ نہیں یار، مجھے تو یہ سب کچھ بولنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس نے تو بس یہ کہا تھا، اور میں نے جواب میں یہ اور یہ اور یہ کہہ دیا تھا۔ سرشاری، شرم ساری میں بدل جاتی ہے۔ تھوڑا تھوڑا دل کرتا ہے کہ اگلے سے معافی ہی مانگ لو۔ پھر خیال آتا ہے کہ معافی مانگ لی تو چھوٹے پڑ جائیں گے۔ ویسے بھی جو باتیں اس سے کہیں، کہیں تو ٹھیک نا۔ یہ اور بات کہ موقع نہ تھا۔ لیکن پھر بھی۔ اسے بھی تو خیال کرنا چاہیے نا۔
کتنی ہی دیر خیالوں کی یہ ٹرین چلتی رہتی ہے۔ پھر زندگی کے کام دھندے چل پڑتے ہیں۔ شاید دو تین گھنٹے بعد آپ یہ بات بھول بھی جاتے ہیں۔ لیکن جس پر آپ برسے ہوتے ہیں، اس کے دل میں تو خفگی کا بیج بویا جا چکا ہوتا ہے۔ تعلق کے آئینے میں بال آ چکا ہوتا ہے۔

 

اور سچی بات ہے یار، یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ غصہ کسی اور چیز کا تھا، لیکن نکل اس بے چارے پر گیا۔
تو پھر کیا کریں؟
میری مانیں۔۔ غصہ آیا ہو نا، تو چپ رہا کریں۔ مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن پھر بھی کوشش کریں کہ اس وقت کوئی بات نہ کریں۔ اور پھر بعد میں بھول جائیں۔ اسی میں سکون ہے بھائی۔ اگلے نے کوئی زیادتی کر دی، کوئی سڑی ہوئی بات کردی، تو پی جائیں۔ بس جواب نہ دیں۔ اس وقت تو جواب ہر گز نہ دیں۔ کچھ دن بعد دیکھی جائے گی۔ اور کچھ دن بعد آپ وہ بات یاد کریں گے تو اتنی بری نہیں لگے گی۔ آزما لیں۔
ایک یہی حل ہے بھائی۔ ورنہ بحث تو چلتی ہی جاتی ہے۔ کوئی نہیں جیتتا۔ آپس کا تعلق ہار جاتا ہے۔

کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: