بے دخل نوجوانوں کا مستقبل کیا؟

ان خاندانوں نے یہاں آنے کے بعد پاکستان کو پلٹ کر نہیں دیکھا، فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں جہاں مجھے بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں وہاں ایک بات بطور خاص میں نے نوٹ کی۔ میں نے دیکھا کہ سندھ کے مختلف شہروں میں سعودی عرب سے بے خل کیے جانے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد کو تاریک مستقبل کا سامنا ہے۔
سعودی عرب وہ اسلامی ملک ہے جہاں کے باشندے اپنے اعلیٰ اخلاق اور اسلامی روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرہ رکھتے ہیں۔ پاکستانی، سعودی عرب کو اپنا دوسرا ملک سمجھتے ہیں۔ یہاں 1950ء سے پاکستانیوں کی آمد شروع ہوئی۔
 اس سے پہلے پاکستانی یہاں حج یا عمرہ ادا کرنے آتے اور واپس چلے جاتے تھے۔ تیل کی دولت نے معاشرے میں جو تبدیلی کی اس کے پیش نظر یہاں ایک طرف رزق کے دروازے کھل گئے تو دوسری طرف سعودی خاندانوں کو گھریلو ملازموں کی ضرورت پیش آ گئی۔
 سعودی عرب میں ایسے پاکستانی خاندان بھی آباد ہیں جن کی تیسری نسل جوان ہو رہی ہے۔ ان میں سے بیشتر نے پاکستان نہیں دیکھا بلکہ بعض کو تو اپنی مادری زبان تک نہیں آتی۔ 
ان خاندانوں نے یہاں آنے کے بعد پاکستان کو پلٹ کر نہیں دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اب یہاں کے ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان نوجوانوں کی اکثریت کا تعلق سندھ اور جنوبی پنجاب سے ہے۔

بے دخل نوجوانوں کے فنگر پرنٹس اور آئی سکیننگ کر لی گئی، اب یہ کبھی واپس نہیں آ سکتے، فوٹو: اے ایف پی

یہ نوجوان قانونی طور پر سعودی شہری نہیں مگر پاکستان سے بھی انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ سعودی عرب میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے ان کا طرز زندگی سعودی شہریوں جیسا ہو گیا۔ ان کو امید تھی کہ ایک نہ ایک دن سعودی حکومت انہیں شہریت دے دے گی۔ 
تیل کی دولت نے وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں بھی تبدیلی کی۔ ایک زمانہ تھا جب سعودی عرب میں پیدا ہونے والے بچے کو 18 سال کی عمر میں شہریت دی جاتی تھی مگر وہ زمانہ چلا گیا۔
 یہ حقیقت ہم غیر ملکیوں کو تسلیم کرنا ہو گی کہ سعودی عرب میں جہاں غیر ملکیوں کا قیام سعودی عرب کی ضرورت ہے وہاں یہی غیر ملکی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بھی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ غیر ملکیوں کے حوالے سے قانون میں کوئی رعایت نہیں۔ افسوس کہ یہ حقیقت سعودی عرب میں آنکھ کھولنے والی پاکستانی نسل کو بہت دیر سے معلوم ہوئی۔ یہ حقیقت اس وقت معلوم ہوئی جب یہ نوجوان کسی نہ کسی کیس میں پھنس گئے اور انہیں ملک بدر کر دیا گیا۔
کسی زمانے میں ملک بدر ہونے والے افراد نیا پاسپورٹ اور نام کی تبدیلی کے ساتھ نئے ویزے پر دوبارہ مملکت آجاتے تھے مگر سعودی عرب نے فنگر پرنٹس اور آئی سکیننگ کا نظام وضع کر کے اس حیلے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔
اندرون سندھ کے شہر دادو جائیں یا جوہی کے ہوٹلوں سے آپ کا گزر ہو، کراچی کے بعض محلوں کا جائزہ لیں یا سرائیکی بیلٹ کو دیکھ لیں، آپ کو ہر جگہ سعودی عرب سے بے دخل ہونے والے نوجوان نظر آئیں گے جو کسی چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر آپس میں عربی میں باتیں کرتے ہوئے ملیں گے۔
یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے سعودی عرب میں آنکھ کھولی، پاکستانی پاسپورٹ کے سوا انہیں ملک سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کے گھر میں بول چال عربی تھی، ان کا طرز زندگی سعودیوں والا تھا اور سوچ و فکر کا انداز بھی مقامی تھا۔
 ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں پاکستان کی ہوا کھانا پڑے گی۔ وہ کسی نہ کسی جرم میں گرفتار ہوئے، انہیں سزائیں ہوئیں اور ملک بدر کر دیا گیا۔
اندرن سندھ، سرائیکی بیلٹ اور کراچی کے بعض علاقوں میں سعودی عرب سے بے دخل کیے جانے والے بیشتر نوجوان منشیات کے کیسز میں پکڑے گئے۔ 

 ان نوجوانوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ انہیں پاکستان کی ہوا کھانی پڑے گی (فوٹو: اے ایف پی)

رات کے وقت سیر سپاٹے کرتے ہوئے کسی تفتیشی چوکی میں آئے اور تلاشی لینے پر ان کے پاس چرس کا سگریٹ یا محض اس کا ٹکڑا ملا جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
جاتے جاتے ان کے فنگر پرنٹس اور آئی سکیننگ کی گئی۔ اب یہ زندگی بھر سعودی عرب واپس نہیں آ سکیں گے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
 ان کا کوئی مستقبل نہیں، ان کی واپسی کا کوئی راستہ نہیں، ان کے گھر والوں نے بھی پاکستان میں کچھ نہیں کیا، اکثریت کا تعلق دیہی علاقے سے ہے، اس لیےان کی تعلیم کا معیار بھی پست ہے۔ وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ کسی اور ملک میں بھی جانے سے قاصر ہیں۔
 ایسے سیکڑوں نوجوانوں سے ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ سب کے حالات مختلف تھے مگر سب میں ندامت اور پشیمانی مشترک تھی۔ 
اور ہاں … سب نے ایک ہی بات کی … ’کاش ہم پاکستان میں کچھ کر لیتے‘
عربی کہاوت ہے:  یا غریب، خلیك ادیب
 ’’اے اجنبی، دیار غیر میں ادب و آداب کا پاس و لحاظ رکھو‘‘

شیئر: