فوجی اتحاد نے جہاز رانی کی حفاظتی مہم کا آغاز کردیا

اس موقع پر عالمی فوجی اتحاد کے فوجی عہدیدار موجود تھے۔  فوٹو سبق
امریکہ کی زیرقیادت عالمی فوجی بحری اتحاد نے خلیج کے علاقے میں ایرانی حملوں سے جہاز رانی کی حفاظت کے لیے اپنی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق عالمی یہ اتحاد امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، برطانیہ، آسٹریلیا اور البانیہ پر مشتمل ہے۔

امریکی کمانڈر کے مطابق درپیش خطرات کا مقابلہ ہمارا اصل ہدف ہے۔ فائل فوٹو

مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جم میلوے نے خصوصی تقریب میں فوجی اتحاد کی حفاظتی مہم شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ یہ اعلان منامہ میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر میں کیا گیا۔ اس موقع پر شریک ممالک کے فوجی عہدیدار موجود تھے۔ 
امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی بحری فورس کے ذریعے ایسے تمام حملوں کا جواب دیں گے جو خلیج کے علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کیے جائیں گے۔
امریکی کمانڈر نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارا ہدف دفاعی ہے۔ کسی کو دھمکانا یا کسی پر حملہ کرنا نہیں۔ درپیش خطرات کا مقابلہ ہمارا اصل ہدف ہے۔
جون 2019 میں عالمی فوجی اتحاد کا فارمولا سامنے آیا تھا۔ کئی ماہ سے اس کا انتظار ہورہا تھا۔ بالاخر باہمی گفت و شنید اور مذاکرات کے بعد سمندری گزر گاہوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے عالمی فوجی اتحاد کا اعلان کردیا گیا۔
پروگرام کے مطابق عالمی فوجی اتحاد کی سرگرمیوں کا دائرہ ’سینیٹنل‘ خلیج کا علاقہ ہوگا۔ آبنائے ہرمز سے لے کر بحر عمان اور پھر بحر احمر میں باب المندب تک کارروائی کرے گا۔
                

 

شیئر: