’مسلم اقلیتیں ملکی آئین اور قوانین کی پابندی کریں‘

 امریکی عرب تعلقات کی قومی کونسل نے العیسیٰ کو خصوصی تمغہ پیش کیا۔ فوٹو واس
رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے کہا ہے کہ مسلم اقلیتیں اپنے ممالک کے آئین اور قوانین کی پابندی کریں۔ اس حوالے سے رابطہ عالم اسلامی اپنا مشن چلا رہا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے یہی مطالبہ کررہا ہے کہ وہ ایسے مذہبی فتوﺅں پر کان نہ دھریں جو ان کے ملکی حالات سے نا واقف اور غیر متعلقہ خارجی اداروں نے جاری کیے ہوں۔

 ڈاکٹر العیسی دنیا بھر کی اقوام کو جوڑنے کا مشن شاندار طریقے سے چلا رہے ہیں۔فوٹو واس

سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے (واس) کے مطابق ڈاکٹر العیسیٰ نے ان خیالات کا اظہار دورہ امریکہ کے موقع پر کانگریس کے ممبران اور امریکہ کے مذہبی قائدین سے ملاقاتوں کے موقع پر کیا۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے امریکی کانگریس کے رکن جان کورٹس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ان سے باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ 
امریکی کانگریس کے رکن نے کہا کہ ڈاکٹر العیسیٰ رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے دنیا بھر کی اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا مشن شاندار طریقے سے چلا رہے ہیں۔ وہ انتہا پسندانہ خیالات سے نمٹنے کے سلسلے میں پرعزم ہیں اور اس حوالے سے ان کی مساعی قابل قدر ہے۔

 اس موقع پر رابطہ عالم اسلامی کا تعارف بھی کرایا گیا ۔ فوٹو واس

ڈاکٹر العیسیٰ نے واشنگٹن میں مشی گن سے امریکی کانگریس کی خاتون رکن سے ملاقات کی۔ انہوں نے مذہبی اقلیتوں کو اپنے معاشروں سے ربط وضبط سے متعلق رابطہ عالم اسلامی کے مشن کو سراہا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر العیسیٰ اس حوالے سے جو کام کررہے ہیں میں مشی گن میں اس سے فائدہ اٹھاﺅں گی جہاں مسلم اقلیت کثیر تعداد میں سکونت پذیر ہے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے امریکی سینیٹ کے ایک اور رکن بیری بلاک سے ملاقات کی۔ ان سے باہمی دلچسپی کے متعدد موضوعات پر گفت و شنید کی۔ کثیر مذہبی اورکثیر نسلی معاشروں میں مذہبی اور قومی ہم آہنگی کا رجحان قائم کرنے کا موضوع ایجنڈے پر سرفہرست تھا۔ اس موقع پر مختلف معاشروں میں محبت اور روا داری کا جذبہ رائج کرنے کے لیے مذہبی اداروں کے درمیان یکجہتی پر زور دیا گیا۔

ڈاکٹر العیسیٰ کی مساعی قابل قدر ہے۔ فوٹو واس

 امریکی عرب تعلقات کی قومی کونسل نے رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کو خصوصی تمغہ پیش کیا۔ کونسل نے مذاہب عالم کے درمیان مشترکہ اقدار کی ترویج کے اعتراف میں انہیں یہ اعزاز پیش کیا۔ اس موقع پر رابطہ عالم اسلامی کا تعارف بھی کرایا گیا ۔ سکالرز اور پروفیسران نے متعدد سوالات بھی کیے۔
                       
 

شیئر: