سعودی ڈاکٹر امراض قلب کے 10عالمی ماہرین میں شامل

ڈاکٹر غنام المشاویہ امریکہ سے اپس سعودی عرب آ کر خدمات انجام دے رہے ہیں
جزیرہ نمائے عرب سینکٹروں برس سے مردم خیز خطہ رہا ہے۔ انہی میں ایک نام سعودی پروفیسر ڈاکٹر غنام بن عاید المشاویہ کا ہے۔
 ڈاکٹر غنام بن عاید المشاویہ نے امریکہ کی معروف ٹیکساس یونیورسٹی میں امراض قلب کے شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور انہیں امراض قلب کے 10عالمی ماہرین میں شامل کرلیا گیا۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹرغنام المشاویہ اب امریکہ سے سعودی عرب واپس آ گئے ہیں۔ کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں دل اور پھیپھڑوں کی پیوند کاری کرنے والی مشرق وسطیٰ کی پہلی ٹیم کے سربراہ بن گئے۔
غنام المشاویہ نے ایک وڈیو جاری کی ہے جسے ’عظیم تجربات کما کر وطن عزیز آنے والا فرزند‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ وڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

ڈاکٹرغنام المشاویہ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے

ڈاکٹرغنام المشاویہ نے وڈیو میں اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا تعلق وادی الدواسر کمشنری سے ہے۔ والدین جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں تعلیم یافتہ نہیں تھے، اس کے باوجود انہوں نے ہمیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔
غنام المشاویہ نے انٹرمیڈیٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ انٹر کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتے تھے۔ والد نے کمسنی کی وجہ سے امریکہ جانے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں کنگ سعود یونیورسٹی ریاض کی فیکلٹی آف میڈیسن میں داخلہ لیا۔ اسی فیکلٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ پھر کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں ہاﺅس جاب کی۔ اسی دوران امریکی ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ سے دل کے آپریشن پر ریسرچ کرنے پر 10 لاکھ ڈالرز کا انعام حاصل کیا۔
ڈاکٹر غنام المشاویہ کے مطابق جب شہزادہ بندر بن سلطان کو اس ایوارڈ کی اطلاع ملی تو انہوں نے مجھے واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے بلا کر ایوارڈ پیش کیا۔ جب انہیں یہ پتا چلا کہ ذاتی خرچ پر امریکہ میں تعلیم حاصل کررہا ہوں تو انہوں نے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال کو خط بھیجا اور مجھے سکالر شپ موثر بماضی جاری کرا دیا۔
ڈاکٹرغنام المشاویہ 1993 میں مملکت واپس آئے۔ یہاں انہوں نے جنرل سرجن کی ٹریننگ حاصل کی، پھر ہارٹ سرجری میں سپیشلائزیشن کی۔ اس دوران امریکہ اور سعودی عرب آنے جانے کا سلسلہ چلتا رہا۔
ڈاکٹر غنام المشاویہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دل اور پھیپھڑوں کی پیوند کاری کا پہلا آپریشن کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں کیا۔
 ’یہ میری پہلی کامیابی تھی۔ اس کامیابی نے مزید کامیابیوں کے دروازے کھول دیے۔ اس کے بعد دوبارہ امریکہ چلا گیا۔ وہاں کلیو لینڈ کلینک میں کام شروع کردیا‘۔
’ الخبرمیں سعد سپیشلسٹ ہسپتال کے سربراہ اعلیٰ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے سے کہا کہ تمہاری جگہ امریکہ نہیں سعودی عرب ہے۔ ان کے کہنے پر الخبر اپنی ٹیم کے ساتھ منتقل ہو گیا‘۔

شیئر:

متعلقہ خبریں