Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں 30 ہزار سے زائد پی ایچ ڈی سکالرز، ’ملازمت کی ضمانت نہیں‘

 
گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کی 119 جامعات سے مجموعی طور پر 32 ہزار 640 پی ایچ ڈی سکالرز فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔
گیلپ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ پی ایچ ڈی کی ڈگریز کیمسٹری کے شعبے میں دی گئی ہیں جن کی تعداد 2,433 ہے۔
رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 25 سال کے دوران پاکستان میں تقریباً 30 ہزار سے زائد پی ایچ ڈیز مکمل ہوئی ہیں جو 1947 سے 2000 کے دوران حاصل ہونے والی تعداد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔
سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ تر پی ایچ ڈی کرنے والے نوجوان ہی ہیں اور ان میں تقریباً 50 فیصد خواتین بھی شامل ہیں تاہم اس 50 فیصد میں سے تقریباً 30 فیصد خواتین پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ملازمت اختیار نہیں کرتیں۔
گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق پاکستان میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے والے زیادہ تر نوجوان یونیورسٹیز میں ہی ملازمت اختیار کرتے ہیں اور عموماً وہ ایچ ای سی سے تسلیم شدہ یونیورسٹیوں میں ایکیڈیمیا سے منسلک رہتے ہیں۔
نوجوان کونسے شعبوں میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں؟
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ کیمسٹری کے شعبے میں 2,433 ڈاکٹریٹ ڈگریاں دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ ریاضی میں 1,680، تعلیم میں1460، اسلامیات میں 1,333 اور اردو میں1241 پی ایچ ڈی ہولڈرز موجود ہیں۔
اسی طرح سائنسی شعبوں میں یہ تعداد قدر کم ہے جہاں فزکس میں 1,006، زوالوجی میں 885 اور باٹنی میں 874 ڈاکٹریٹ ڈگریاں دی گئی ہیں۔
معاشی شعبوں میں بھی یہ تعداد نسبتا کم تعداد ہے جہاں اکنامکس میں 743 اور بائیو ٹیکنالوجی میں 699 پی ایچ ڈیز ریکارڈ کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں اس اضافے سے ملک میں تحقیقی تربیت کے پھیلاؤ کا پتہ چلتا ہے، تاہم مختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی کی تقسیم بعض اہم ساختی رجحانات کو بھی نمایاں کرتی ہے جو پالیسی سازی کے لیے توجہ طلب ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ تعلیم اور معیشت کی ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہ کی گئی تو بڑھتی ہوئی پی ایچ ڈی تعداد بے روزگاری، جامعات میں گنجائش کے دباؤ اور محدود تکنیکی ترقی جیسے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ادارے نے ایچ ای سی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ 1947 سے 2000 تک پاکستان میں تقریباً 2,500 پی ایچ ڈی سکالرز تھے، جس کے بعد اگلے 25 سال میں یہ تعداد 30 ہزار سے زائد ہو گئی، یعنی حالیہ عرصے میں پی ایچ ڈی کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
بلال گیلانی نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ سائنسی شعبوں میں تو پی ایچ ڈی کافی مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن کچھ ایسے مضامین بھی ہیں جہاں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ان کے لیے پی ایچ ڈی کرنا واقعی مفید ہے ؟
ماہرین کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کے اعتبار سے پاکستان میں پی ایچ ڈی کی شرح ابھی بھی متاثر کن نہیں ہے تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی نوجوانوں کو ملازمت ملے گی۔

 

شیئر: