Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران ایسے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکیں: صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایسے میزائل بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکہ کو نشانہ بنا سکیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران پر جوہری پروگرام کی تعمیر نو کا الزام بھی لگایا جس کو پچھلے برس امریکہ نے حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام اور میزائلز کی تیاری سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات ہو رہے ہیں اور انہی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ترجیح سفارت کاری ہی ہے تاہم اس کی ناکامی کی صورت میں طاقت کے استعمال کے لیے بھی تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں تاہم خبردار بھی کیا کہ وہ کبھی بھی تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
’ہم ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم ابھی اتک ایرانی حکام کی جانب سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ ہم کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے۔‘ 
 امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’میری ترجیح یہی ہے کہ معاملے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے مگر ایک بات طے ہے کہ میں دنیا میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سپانسر جو اب بھی ہے، کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ پہلے ہی ایسے میزائل بنا چکے ہیں جو یورپ اور بیرون ملک ہمارے اڈوں کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں اور ایسے میزائلز پر بھی کام کر رہے ہیں جو جلد ہی امریکہ تک پہنچ جائیں گے۔‘
2025 میں امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسی نے کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر 2035 تک ایسے میزائل تیار کر سکتا ہے جو دوسرے براعظموں تک مار کر سکیں۔
امریکی کانگریس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تہران کے پاس اس وقت درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو تقریباً ایک ہزار آٹھ سو 50 میل (تین ہزار کلومیٹر) تک مار کر سکتے ہیں۔
براعظم امریکہ ایران کی مغربی سرحد سے چھ ہزار میل سے زیادہ فاصلے پر ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے دو دور مکمل ہو چکے ہیں، جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اس معاہدے کو تبدیل کرنا ہے جس کو صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت کے دوران ختم کر دیا تھا۔

شیئر: