عسیر کی 400 سال پرانی مسجد المضفاہ کی تعمیر نو کا کام مکمل
مملکت کی تاریخی مساجد کی تعمیرِ نو اور بحالی کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں متعدد مساجد کی ازسرِنو تعمیر مکمل کی جا چکی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق عسیر ریجن میں واقع چار صدی قدیم تاریخی مسجد المضفاہ کی اصل شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی تعمیرِ نو مکمل کر لی گئی ہے۔
تاریخی مسجد المضفاہ الباحہ ریجن اور ابھا شہر کے درمیان واقع ہے اور انتظامی طور پر بللسمر مرکز کے زیرِ انتظام آتی ہے، جبکہ ابھا شہر اس مقام سے تقریباً 55 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
مسجد کا کل رقبہ 325 مربع میٹر پر مشتمل ہے۔ ماضی میں اس مسجد کو وہاں آنے والے مسافروں اور مہمانوں کی وجہ سے نمایاں اہمیت حاصل تھی۔
مسجد کے اطراف میں 13 باغات تھے جن کی فصل مہمانوں کی خدمت کے لیے وقف کی جاتی تھی جو علاقے کے لوگوں کی سخاوت کی واضح عکاس تھی۔

یہ مسجد گیارہویں صدی ہجری میں السراہ طرزِ تعمیر کے مطابق بنائی گئی۔ عسیر ریجن کے جنوبی حصے میں واقع قصبہ المضفاہ سے نسبت کے باعث اسے اسی گاؤں کے نام سے موسوم کیا گیا۔
عسیر ریجن میں اس مسجد کا شمار قدیم ترین عمارتوں میں ہوتا ہے، جہاں تعمیر کے پہلے دن سے آج تک باقاعدگی سے نمازیں ادا کی جا رہی ہیں۔

1380 ہجری میں مسجد کا ایک حصہ جزوی طور پر منہدم ہو گیا تھا، جس کے بعد اسے اسی سابقہ طرزِ تعمیر کے مطابق ازسرِنو تعمیر کیا گیا۔
مسجد میں مرکزی ہال اور بیرونی صحن کے ساتھ ساتھ ماضی کے طرز پر تعمیر کیے گئے چند وضو خانے اور مہمانوں کے لیے ایک مخصوص کمرہ بھی موجود تھا، جسے ’المنزالہ‘ کہا جاتا تھا۔ مسجد کا مینار مستطیل طرز کا تھا اور اس کی بلندی 4.70 میٹر تھی۔
