پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی نئی ویکسین

پاکستان میں 2017 کے دوران ٹائیفائیڈ کے 63 فیصد کیسز رجسٹر ہوئے تھے (فوٹو:اے ایف پی)
پاکستان دنیا میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی نئی ویکسین متعارف کروانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
حکام کے مطابق نئی ویکسین متعارف کروانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب ملک کے مختلف حصے اس مہلک بیماری کی لپیٹ میں ہیں اور اس بیماری سے بچاؤ کے لیے دی جانے والی مدافعتی ادویات بچوں پر اثر نہیں کر رہی تھیں۔  
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تصدیق شدہ یہ ویکسین جنوبی سندھ میں حفاظتی ٹیکوں کی دو ہفتوں پر مشتمل مہم میں استعمال کی جائے گی۔
پاکستان کے صوبہ سندھ میں 2017 کے بعد سے اب تک ٹائیفائیڈ کے 10 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔
صوبہ سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو کے مطابق صوبے میں جمعے سے شروع ہونے والی دو ہفتوں پر مشتمل اس مہم کے دوران نو سے 15 سال تک کی عمر کے ایک کروڑ سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔
حکومت پاکستان کو یہ ویکسین بچوں کی صحت پر کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’غوی‘ کی جانب سے مفت میں فراہم کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق دو ہفتوں پر مشتمل مہم کے بعد یہ ویکسین صوبہ سندھ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بھی متعارف کروائی جائے گی۔

حکام کے مطابق نئی ویکسین متعارف کروانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب ملک کے مختلف حصے اس مہلک بیماری کی لپیٹ میں ہیں (فوٹو:اے ایف پی)

حکومت پاکستان، عالمی ادارہ صحت اور غوی کی ایک مشترکہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان میں 2017 کے دوران ٹائیفائیڈ کے 63 فیصد کیسز رجسٹر ہوئے تھے اور مرنے والوں میں 70 فیصد تعداد بچوں کی تھی۔
پاکستان اپنے قومی وسائل سے معمولی سی رقم صحت عامہ پر خرچ کرتا ہے اور اس کی اکثریتی آبادی ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: