نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کی تیاریاں مکمل

وزارت داخلہ نے نوازشریف کو چار ہفتے تک بیرون ملک رہنے کی اجازت دی ہے، فوٹو:روئٹرز
وزارت داخلہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو علاج کے لیے بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دینے کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا اور ان کو پاکستان سے برطانیہ بھجوانے کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق سابق وزیراعظم کو علاج کی غرض سے ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو موصول ہونے والے شیڈول کے مطابق قطر ایئر ویز کی ایئر ایمبولینس فیری منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کرے گی۔ ساڑھے نو بجے حج ٹرمینل سے سابق وزیراعظم نواز شریف سوار ہوں گے جبکہ 10 بجے ایمبولینس اڑان بھرے گی۔
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ڈاکٹرز کی ٹیم بھی نواز شریف کے ساتھ ہو گی۔
نواز شریف کو بیرون ملک سفر کی اجازت کا نوٹی فیکیشن وزارت داخلہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جاری کیا ہے۔
نوٹی فیکیشن کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی پر اجازت دی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کو چار ہفتے تک بیرون ملک رہنے کی اجازت ہے تاہم ان کی وطن واپسی ان کی صحت کی بحالی سے مشروط ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کے مطابق بھی ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد ہی سابق وزیراعظم پاکستان واپس آئیں گے۔
وزارت داخلہ کے نوٹی فیکیشن کے بعد حکومت کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے یا نہ کرنے کا ابہام بھی ختم ہو چکا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ ’نوازشریف منگل کے روز بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے۔‘ فوٹو: اے ایف پی

اس سے قبل مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب ایک بیان میں کہہ چکی ہیں کہ ’سابق وزیراعظم نواز شریف منگل کے روز بیرون ملک روانہ ہو جائیں گے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ نوازشریف کو بیرون ملک لے جانے کے لیے ایئر ایمبولنس منگل کو پہنچے گی۔
’ڈاکٹرز نے نوازشریف کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور بیرون ملک علاج کے لیے روانگی کے سلسلے میں نوازشریف کی طبی علامات کا جائزہ لیا۔‘
’سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز دینے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ پلیٹ لیٹس کی مقدار سفر کے دوران مطلوبہ سطح پر رہے۔ ڈاکٹرز پلیٹ لیٹس اس محفوظ سطح پر رکھنے کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہوائی سفر میں کوئی طبی مسئلہ پیدا نہ ہو، سٹیرائیڈز کی ہائی ڈوز کے ساتھ دیگر ادویات بھی رد و بدل کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہیں۔‘ 
سابق وزیراعظم کی صحت کی صورت حال کے معاملے میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’‎سٹیرائیڈز اور ادویات کی زیادہ مقدار میں استعمال سے ہونے والے سائیڈ افیکٹس کو کنٹرول میں لانے کی بھی کوشش جاری ہے۔‘
’ڈاکٹرز ان ممکنہ خطرات کو بھی پیش نظر رکھ کر ادویات دے رہے ہیں جو ہوائی سفر کے دوران ممکنہ طورپر پیش آسکتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کا نام قومی احتساب بیورو (نیب) کے کہنے پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی اور وہ کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے تھے، تاہم ان کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے شہباز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دی تھی جو کہ منظور کر لی گئی۔
تاہم ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے حکومت نے انڈیمنٹی بانڈز کی شرط عائد کی تھی جسے مسلم لیگ ن نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے حکومت کی انڈیمنٹی بانڈز کی شرط کو رد کرتے ہوئے شریف برادران سے بیان حلفی جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

 

شیئر: