نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت: اب آگے کیا ہوگا؟

نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے پر لیگی کارکنوں نے جشن منایا (فوٹو: اے ایف پی)
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے غیر مشروط طور پر نکالنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کی بیرون ملک روانگی میں حائل رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے باوجود پاکستان کی سیاست نواز شریف کے گرد گھومتی ہے اور مسلم لیگ ن ملک کی بڑی سیاسی قوت تصور کی جاتی ہے۔
نواز شریف نے ملک کی اعلی عدالت سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے خلاف مقدمات کو انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد این آر او نہ دینے کا بارہا اعلان کرتے نظر آئے اور کئی بار انہوں نے یہ تک کہا کہ حزب اختلاف کے رہنماوں کو این آر او دینا ملک کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔
نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے ملک کے سیاسی منظر نامے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ جاننے کے لیے اردو نیوز نے سیاسی تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
سابق وزیراعظم کو بیرون ملک جانے کی اجازت ملنے کو سیاسی تجزیہ کار ملکی سیاست میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
سینئیر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا نواز شریف کے بیرون ملک جانے سے ن لیگ کی سیاسی مصالحت میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گی۔ ’شہباز شریف جس طرح مسلم لیگ ن کو چلانا چاہتے تھے، اب ان کو کافی کھلا ہاتھ مل جائے گا۔‘
سینئیر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق مسلم لیگ ن کی سیاست نواز شریف کے گرد گھومتی ہے اور ان کے ملک باہر جانے کے بعد بھی فیصلے نواز شریف کی مرضی سے ہی ہوں گے۔

حکومت نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے شورٹی بانڈز کی شرط رکھی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

’جو صورتحال نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سے حکومت نے بنائی اس سے ملک میں دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔‘

کیا نواز شریف کو ریلیف ملنا این آر او کا نتیجہ ہے؟

سینئیر تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ این آر او دینے یا نہ دینے کا اختیار عمران خان کے پاس نہیں اور نہ ہی یہ ان کی مرضی کا محتاج ہے۔ ’این آر او ہمیشہ فوجی آمروں یا اسٹیبلیشمنٹ نے دیے ہیں۔ اگر کوئی این آر او ہوا بھی ہے تو یہ عمران خان نے نہیں دیا یہ انہوں نے ہی دیا ہوگا جو دیا کرتے ہیں۔‘
سلمان غنی کہتے ہیں این آر او دینا وزیراعظم عمران خان کا ایک سیاسی بیانیہ تھا۔ ’عمران خان آج تک ثابت نہیں کر پائے کہ ان سے این آر او مانگا کس نے ہے؟ یہ ان کا ایک سیاسی بیانیہ تھا جو کہ اب دم توڑ چکا ہے۔‘
امتیاز عالم کی رائے میں این آر او کے حوالے سے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن نواز شریف کا ملک سے باہر جانے کا ماحول بننا بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ ’ان کو جو ریلیف ملا ہے وہ اندرونی اور بیرونی طور پر بھی بڑی تبدیلی ہے۔ لگ ایسا رہا کہ اسٹیبلیشمنت اور سول حکومت کے درمیان بھی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں سیاسی بے یقینی بڑھے گی اور اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔ کون کس کی بس میں سوار ہوتا ہے اور کون کہا جاتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔‘

عمران خان بارہا این آر او نہ دینے کا کہہ چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

امتیاز عالم کے بقول اس نظام کو چلانے والے لوگ اب پریشان ہیں کیونکہ عمران خان  کی احتساب کی جو مہم تھی اس سے کچھ نہیں نکلا۔ ’نواز شریف کے خلاف جو فیصلے آئے ایک مقدمہ معطل ہے اور دوسرا فیصلہ جج ویڈیو سکینڈل کے بعد  مشکوک ہو چکا ہے۔‘

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے ملکی سیاست پر کیا اثر پڑے گا؟

امتیاز عالم کے مطابق ڈیڑھ سال قبل قائم ہونے والی حکومت کو اب کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ’اتحادی جماعتیں بھی اب اپنی اپنی رائے دیتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ حکومت درجن بھر ووٹوں سے برقرار ہے اور اگر اتحادی آگے پیچھے ہو گئے تو بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چوہدری شجاعت نے جو بیان دیا اس سے بڑھ کر وزیراعظم پر بد اعتمادی کوئی نہیں ہوسکتی۔ اتحادی ان ہاؤس تبدیلی کے لیے پر تول رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اندر بھی اختلافات تو موجود ہیں۔ چند ماہ میں چیزیں مزید کھل کر سامنے آئیں گی۔‘
سلیم بخاری کے مطابق ملک کی سیاسی صورتحال بہت تبدیل ہو چکی ہے ۔’جس شدت کے ساتھ اتحادیوں نے سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھیجنے کی بات کی اس سے لگ رہا کہ اتحادی اب حکومت مخالف بات کرنا شروع کر چکے ہیں اور جب اتحادی حکومت مخالف بات کرنے پر آجائیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حکومت اب اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔‘
سلمان غنی کے مطابق چوہدری برادارن شریف خاندان کے بدترین سیاسی مخالف تصور کیے جاتے ہیں لیکن جس طرح انہوں نے اس معاملے میں شریف خاندان کے حق میں بات کی اس سے چوہدری بردران کے حکومت سے فاصلے بڑھ چکے ہیں۔

کیا مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کا بھی کوئی کردار ہے؟

سیاسی تجزیہ کار مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کو ملک میں تبدیل ہوتے سیاسی منظر نامے میں کافی اہم قرار دے رہے ہیں۔

سلیم بخاری کے مطابق ’جمیعت علمائے اسلام کا دھرنا بلاوجہ ختم نہیں ہوا (فوٹو: اے ایف پی)

سینئیر تجزیہ کار امتیاز عالم کے مطابق ’مولانا کا دھرنا  ناکام نہیں ہوا۔ انہوں نے اس ڈھانچے میں دراڑ ڈالی ہے۔ حکومت مجبور ہوگئی کہ قومی اسمبلی میں لائے گئے آرڈینس واپس لیے جائیں۔ عمران خان کی زبان میں بھی تبدیلی آئی ہے۔‘
سلیم بخاری کے مطابق ’جمیعت علمائے اسلام کا دھرنا بلاوجہ ختم نہیں ہوا۔ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ اس کے پس منظر میں کیا ڈیل تھی اور کن کے ساتھ تھی۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: