سعودی کابینہ،’عالمی برادری فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرے‘

کابینہ نے غزہ پٹی پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی مذمت کی ہےفوٹو: ایس پی اے
سعودی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں رابغ تھری سے سمندری جہاز پر قبضہ کرکے خطرناک مثال قائم کی ہے۔ 
حوثیوں نے اپنے اس اقدام سے عالمی جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کی آزادی کو حقیقی خطرہ لاحق کیا ہے۔ یہ آبنائے باب المندب کے امن کو مخدوش کرنے والی مجرمانہ نظیر ہے۔
سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق کابینہ نے اس موقف کا اظہار منگل کو ریاض کے قصر یمامہ میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں کیا۔
کابینہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور بین الاقوامی قانون کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے اپنا کردارادا کرے۔

سیاحت کے فروغ کے لیے فرانس کے ساتھ معاہدے کی بھی منظوری دی گئی (فوٹو: ایس پی اے)

سعودی کابینہ نے غزہ پٹی پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں سے دسیوں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بین الاقوامی معاہدوں، انسانیت نواز اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے سراسر خلاف ہے۔
سعودی کابینہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے روزگار و امداد کی ایجنسی’ اونروا‘ میں تین سال کی توسیع کے متفقہ بین الاقوامی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری نے یہ اقدام فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق دلانے سے متعلق اپنے عہد کی پاسداری میں کیا ہے۔
سعودی کابینہ کے مطابق سعودی عرب اونروا کی مدد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور 2000 سے لیکر 2019 تک اونروا کو 900 ملین ڈالر دے چکا ہے۔ اس رقم سے اونروا نے فلسطینی پناہ گزینوں کی اعانت کے متعدد پروگرام کیے۔ 
سعودی عرب نے فلسطین کو 7ارب ڈالر کے لگ بھگ امداد دی ہے۔ ستمبر 2019 میں 50 ملین ڈالر کی اضافی اعانت بھی اونروا کو دی گئی۔

کابینہ نے شامی بحران سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لیا (فوٹو: ایس پی اے)

کابینہ نے شامی بحران سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لیا اور شام میں آئینی کمیٹی کے قیام پر ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ کابینہ نے امید ظاہر کی کہ اس کی بدولت شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سہارا ملے گا۔
سعودی کابینہ نے آٹھ فیصلے جاری کیے ان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تجارتی اداروں کی فنڈنگ کا پروگرام شامل ہے۔
سعودی وزیراطلاعات ترکی الشبانہ نے اجلاس کے بعد واس کو بتایا کہ کابینہ نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے میانمار کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں سے متعلق اپنی سیاسی اور انسانی ذمہ داری پوری کرے۔
سعودی کابینہ نے جنوبی افریقہ کے ساتھ تجدد پذیر توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا اختیار وزیر توانائی ، برونڈی کے ساتھ امن و سلامتی کے معاہدے کا اختیار وزیر داخلہ کو تفویض کیا ۔
کابینہ نے العلا میں ثقافتی و ماحولیاتی و سیاحتی فروغ کے لیے فرانس کے ساتھ معاہدے کی بھی منظوری دی۔ 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: